Surah Al Araf Ayat 12 (7:12)
The Heights · Juz 8 · Makki
قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَؕ-قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ نے فرمایا: جب میں نے تجھے حکم دیا تھاتو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ ابلیس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں ۔تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ۔
Tafseer (Urdu)
{ خلقتنی من نار:تو نے مجھے آگ سے بنایا۔} اس سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ آگ مٹی سے افضل اور اعلی ہے تو جس کی اصل آگ ہوگی وہ اس سے افضل ہوگا جس کی اصل مٹی ہو اور اس خبیث کا یہ خیال غلط وباطل تھا کیونکہ افضل وہ ہے جسے مالک و مولی فضیلت دے فضیلت کا مدار اصل اور جوہر پر نہیں بلکہ مالک کی اطاعت وفرمانبرداری پر ہے نیز آگ کا مٹی سے افضل ہونا بھی صحیح نہیں کیونکہ آگ میں طیش اور تیزی اور بلندی چاہنا ہے اور یہ چیزیں تکبر کاسبب بنتی ہے جبکہ مٹی سے وقار حلم اور صبر حاصل ہوتے ہیں۔ یونہی مٹی سے ملک آباد ہوتے ہیں جبکہ آگ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نیزمٹی امانت دار ہے جو چیز اس میں رکھی جائے مٹی ا سے محفوظ رکھتی ہے جبکہ جو چیز آگ میں ڈالی جائے اگ اسے فنا کردیتی ہے۔ نیز مٹی آگ کو بجھا دیتی ہے اور آگ مٹی کو فنا نہیں کرسکتی۔ نیز یہاں ایک اور بات یہ ہے کہ شیطان پرلے درجے کا احمق و بدبخت تھا کہ اللہ عزوجل کا صریح حکم موجود ہوتے ہوئے اس کے مقابلے میں قیاس کیا اور جو قیاس نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود۔ اس ایت سے ثابت ہوتا ہے کہ امر (حکم) وجوب کے لئے ہوتا ہے اوراللہ عزوجل نے جو شیطان سے سجدہ نہ کرنے کا سبب دریافت فرمایا تو یہ اس کی ڈانٹ پھٹکار کیلئے تھا اور اس لئے کہ شیطان کی حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے دشمنی اور اس کاکفر وتکبر ظاہر ہوجائے نیز اپنی اصل یعنی اگ پر مغرور ہونا اور حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل یعنی مٹی کی تحقیر کرنا ظاہر ہوجائے۔