Surah Al Araf Ayat 135 (7:135)
The Heights · Juz 9 · Makki
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ 135
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب ہم ان سے اس مدت تک کے لئے عذاب اٹھالیتے جس تک انہیں پہنچنا تھا تو وہ فوراً (اپنا عہد) توڑ دیتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے۔
Tafseer (Urdu)
{ فانتقمنا منهم:تو ہم نے ان سے بدلہ لیا۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعادان کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد انہیں اللہ تعالی نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۶ ۲ / ۱۳۲) {واورثنا:اور ہم نے مالک بنا دیا۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل کو غیبی خبر دی تھی کہ ’’ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا‘‘ جیسااپ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا چنانچہ اللہ تعالی نے فرعون کو غرق کر کے ہلاک کر دیا اس کا ذکر اوپر والی ایت میں ہے اور اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو پورے مصرو شام کا مالک بنا دیا اس کا ذکر اس ایت میں ہے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۷ ۵ / ۳۴۸ ملتقطا) اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد اللہ تعالی نے فرعون کے مظالم کا شکار بنی اسرائیل کو سرزمین کے مشرق و مغرب یعنی مصر و شام کا مالک بنا دیا۔ اس سر زمین میں اللہ تعالی نے نہروں درختوں پھلوں کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالی کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور اللہ تعالی نے ان تمام عمارتوں ایوانوں اور باغوں کوبرباد کر دیا جو فرعون اور اس کی قوم نے بنائے تھے۔ اس ایت میں صبر کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے عزت غلبہ خوشحالی اور حکمرانی نصیب ہوئی۔