Surah Al Araf Ayat 144 (7:144)
The Heights · Juz 9 · Makki
قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ ﳲ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ 144
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (اللہ نے) فرمایا: اے موسیٰ! میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا تو جو میں نے تمہیں عطا فرمایا ہے اسے لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قال یموسى:فرمایا اے موسی۔} اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دیدار کے مطالبے پر منع فرما دیا تھا اس ایت میں اللہ تعالی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر کئے گئے انعامات کو گنوا کر انہیں تسلی دیتے ہوئے شکر کرنے کا حکم دے رہا ہے گویا کہ اللہ تعالی نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اے موسی! دیدار کا مطالبہ کرنے پر اگرچہ تجھے منع کر دیا گیا لیکن میں نے تمہیں فلاں فلاں عظیم نعمتیں تو عطا فرمائی ہیں لہذا دیدار سے منع کرنے پر اپنا سینہ تنگ نہ کرو تم ان نعمتوں کی طرف دیکھو جن کے ساتھ میں نے تمہیں خاص کیا کہ میں نے اپنی رسالتوں کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا اور تمہیں مجھ سے بلا واسطہ ہم کلامی کا شرف عطا ہوا جبکہ دیگر انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام سے فرشتے کے واسطے سے کلام ہوا۔( خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۴۴ ۲ / ۱۳۸) حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے زمانے کے لوگوں پر انتخاب ہوا: یاد رہے کہ ایت میں جو بیان ہو ا کہ ’’اللہ تعالی نے حضرت موسی کو اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر منتخب کرلیا ‘‘ اس میں لوگوں سے مراد ان کے زمانے کے لوگ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے زیادہ عزت و مرتبے والے شرافت ووجاہت والے تھے کیونکہ اپ صاحب شریعت تھے اور اپ پر اللہ عزوجل کی کتاب تورات بھی نازل ہوئی۔ لہذا اس سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور تاجدار رسا لت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔(خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۴۴ ۲ / ۱۳۸ صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۴۴ ۲ / ۷۰۸ ملتقطا)