Surah Al Araf Ayat 16 (7:16)
The Heights · Juz 8 · Makki
قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariشیطان نے کہا: مجھے اِس کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر لوگوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔
Tafseer (Urdu)
{ قال فبما اغویتنی:شیطان نے کہا: مجھے اس کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔} شیطان نے یہاں گمراہ کرنے کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف کی اس میں یا تو شیطان نے خود کو مجبور محض مان کر جبریہ فرقے کی طرح یہ بات کی جو یہ کہتے ہیں کہ انسان مجبور محض ہے وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں اپنے اختیار سے نہیں کرتا اور یا پھر اللہ تعالی کی بے ادبی کے طور پر کہا کیونکہ ہرشے اللہ عزوجل کی قدرت و تخلیق سے ہوتی ہے لیکن چونکہ بندے کے کسب و فعل کا بھی دخل ہوتا ہے اس لئے حکم ہے کہ برائی کواللہ عزوجل کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اپنے نفس کی طرف منسوب کرنا چاہیے لیکن شیطان جو حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کا گستاخ ہوچکا تھا تو اب اللہ عزوجل کا بھی گستاخ بن گیا۔ معلوم ہوا کہ نبی کا گستاخ بالاخر اللہ عزوجل کا بھی کھلم کھلا گستاخ بن جاتا ہے۔ { لاقعدن لهم صراطك المستقیم:میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر لوگوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔} یعنی باپ کا بدلہ اولاد سے لوں گا۔ بنی آدم کے دل میں وسوسے ڈالوں گا اور انہیں باطل کی طرف مائل کروں گا گناہوں کی رغبت دلاوں گا تیری اطاعت اور عبادت سے روکوں گا اور گمراہی میں ڈالوں گا۔ بعض کو کافر و مشرک بنا دوں گا تاکہ دوزخ میں اکیلا نہ جاوں بلکہ جماعت کے ساتھ جاوں۔