Surah Al Araf Ayat 161 (7:161)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓــٴٰـتِكُمْ ؕ-سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ 161
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ان سے فرمایا گیا کہ اِس شہر میں سکونت اختیار کرو اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور یوں کہو ’’ہماری بخشش ہو‘‘ اور (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجاؤ تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے (اور) نیکی کرنے والوں کو عنقریب اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب ان سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قیل لهم: اور یادکرو جب ان سے فرمایا گیا۔} اس کی تفسیر سورہ بقرہ ایت نمبر58کے تحت گزر چکی ہے۔ {فبدل الذین ظلموا منهم قولا:تو ان میں سے ظالموں نے بات بدل دی۔} اس کی تفسیر سورہ بقرہ ایت نمبر 59 کے تحت گزر چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں حکم تو تھا کہ حطۃ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں حطۃ توبہ اور استغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہ تمسخر حنطۃ فی شعیرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ اس بنا پر ان پر عذاب نازل ہوا اوروہ عذاب طاعون کی وبا تھی جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار اسرائیلی فوت ہو گئے۔