Surah Al Araf Ayat 188 (7:188)
The Heights · Juz 9 · Makki
قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِۚۛ-وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُۚۛ-اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 188
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں مگر جواللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تومیں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی۔ میں تو ایمان والوں کو صرف ڈراور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{قل لا املك لنفسی نفعا و لا ضرا الا ما شآء الله:تم فرماؤ میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے ۔} ایت کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس ایت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کمال درجے کی عاجزی عظمت الہی اور عقیدہ توحید کے اظہار کا حکم فرمایا گیا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس جو قدرت و اختیار اور علم ہے خواہ اپنی ذات کے متعلق یا دوسروں کے بارے میں یونہی دنیاوی چیزوں کے بارے میں یا قیامت اخرت اور جنت کے بارے میں وہ تمام کا تمام اللہ عزوجل کی عطا سے ہے لہذا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اولین و اخرین سے افضل ہونا دنیا و اخرت کے امور میں تصرف فرمانا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو شفا عطا فرمانا بلکہ جنت عطا فرمانا انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کرنا وغیرہا جتنی چیزیں ہیں سب اللہ عزوجل کے چاہنے سے ہیں۔ {و لو كنت اعلم الغیب:اور اگر میں غیب جان لیا کرتا۔} اس ایت مبارکہ میں علم غیب کی نفی کی علماء کرام نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں ان میں سے چار توجیہات درج ذیل ہیں جنہیں اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علوم کے بیان پر مشتمل اپنی لاجواب کتاب’’انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیء‘‘(اللہ تعالی کا کلام قران مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے) میں بیان فرمایا ہے۔ (1)…اس ایت میں علم عطائی کی نفی نہیں بلکہ علم ذاتی کی نفی ہے ۔ امام قاضی عیاض رحمۃاللہ تعالی علیہ شفا شریف میں فرماتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو غیوب پر مطلع فرمایا اور ائندہ ہونے والے واقعات سے با خبر کیا۔ اس باب میں احادیث کا وہ بحر ذخار ہے کہ کوئی اس کی گہرائی جان ہی نہیں سکتا اور نہ ا س کا پانی ختم ہوتا ہے۔اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزات میں سے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو یقین اور وثوق سے معلوم ہے اور ہم تک ا س کی خبریں متواتر طریقے سے کثرت سے پہنچی ہیں اور غیب پر اطلاع ہونے پر ان احادیث کے معانی و مطالب اپس میں متحد ہیں۔ (شفاء شریف فصل ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون ص۳۳۵-۳۳۶ الجزء الاول) علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’یہ وضاحت ا ن قرانی ایات کے منافی نہیں جن میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور اس ایت کریمہ’’و لو كنت اعلم الغیب لا ستكثرت من الخیر‘‘ میں کسی واسطے کے بغیر (یعنی علم ذاتی) کی نفی کی گئی ہے البتہ اللہ تعالی کے بتانے سے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا غیب پر مطلع ہونا ثابت ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے۔ ’’علم الغیب فلا یظهر على غیبه احدا(۲۶) الا من ارتضى من رسول‘‘ (جن۲۶ ۲۷) ترجمہ کنزالعرفان:غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (نسیم الریاض القسم الاول فی تعظیم العلی الاعظم۔۔۔ الخ فصل فیما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون ۴ / ۱۴۹) (2)…یہ کلام ادب و تواضع کے طور پر ہے۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں اس بات کا احتمال ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ کلام تواضع اور ادب کے طور پر فرمایا ہو اور مطلب یہ ہے کہ میں غیب نہیں جانتا مگر یہ کہ اللہ تعالی نے جس کی مجھے اطلاع دی اور جو میرے لئے مقرر فرمایا میں صرف اسی کو جانتا ہوں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۸۸ ۲ / ۱۶۷) (3)…اس ایت میں فی الحال غیب جاننے کی نفی ہے مستقبل میں نہ جاننے پر دلیل نہیں ہے۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غیب پر مطلع ہونے سے پہلے یہ کلام فرمایا پھر جب اللہ تعالی نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو علم غیب کی اطلاع دی تو حضور انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کی خبر دی جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’فلا یظهر على غیبه احدا(۲۶) الا من ارتضى من رسول‘‘(جن:۲۶ ۲۷) ترجمہ کنزالعرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۸۸ ۲ / ۱۶۷) (4)…یہ کلام کفار کے سوال کے جواب میں صادر ہوا۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کلام کفار کے سوال کے جواب میں صادر ہوا پھر ا س کے بعد اللہ تعالی نے غیبی اشیاء کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ظاہر کیا اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کی خبر دی تاکہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا معجزہ اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت صحیح ہونے پر دلیل بن جائے۔( خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۸۸ ۲ / ۱۶۷) {لا ستكثرت من الخیر:تومیں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا۔} اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’بھلائی جمع کرنا اور برائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہوسکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہوکیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی تو معنی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کرلیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافروں کا مومن کرلینا ہو اور برائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا تو حاصل کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافرین ! تمہیں سب کو مومن کر ڈالتا اور تمہاری کفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی۔(خزائن العرفان الاعراف تحت الایۃ: ۱۸۸ ص۳۳۰)