Surah Al Araf Ayat 194 (7:194)
The Heights · Juz 9 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 194
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الذین تدعون من دون الله:بیشک وہ (بت) جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔} ایت میں لفظ’’ تدعون‘‘ کا معنی ہے ’’تعبدون‘‘ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ ا س ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی بجائے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اور تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو یہ بھی اسی طرح اللہ تعالی کے مملوک اور مخلوق ہیں جس طرح تم ہو اوراللہ تعالی کے مملوک و مخلوق کسی طرح پوجے جانے کے قابل نہیں اس کے باوجود بھی اگر تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو تو تم نفع پہچانے اور نقصان دور کرنے کے سلسلے میں انہیں پکارو پھر اگر تم اپنے گمان کے مطابق سچے ہو کہ یہ ا س چیز کی قدرت رکھتے ہیں جس سے تم عاجز ہو تو ان بتوں کو چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں۔(بیضاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۹۴ ۳ / ۸۴ تفسیر قرطبی الاعراف تحت الایۃ: ۱۹۴ ۴ / ۲۴۴ الجزء السابع روح البیان الاعراف تحت الایۃ: ۱۹۴ ۳ / ۲۹۵ملتقتا) مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر پکارنا شرک ہے ورنہ ہر گز شرک نہیں : یہاں ایک اہم بات یاد رہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کسی کی بھی عبادت کرنا شرک ہے اسی طرح مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر اسے پکارنا یا اس سے حاجتیں اور مدد طلب کرنا بھی شرک ہے البتہ اگر کوئی اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو معبود نہ مانتا ہو اور وہ اللہ تعالی کے نیک بندوں کو اس کی عطا سے مشکلات دور کرنے والا حاجتیں پوری کرنے والا اور مدد کے وقت مدد کرنے والا مانتا ہو اور اسی عقیدے کی بنیاد پر وہ بارگاہ الہی کے مقبول بندوں سے مشکلات کی دوری کے لئے فریاد کرتا ہو اپنی حاجتیں پوری ہونے کے لئے دعائیں مانگتا ہو یا مصیبت کے وقت انہیں مدد کے لئے پکارتا ہو تو ا س کا یہ فریاد کرنا مانگنا اور پکارنا ہر گز شرک نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے قران پاک میں غورو تفکر کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار و مشرکین کا اپنے بتوں سے متعلق عقیدہ یہ تھا کہ وہ بتوں کو معبود مانتے اور ان کی عبادت کرتے تھے جیسا کہ قران پاک میں ہے: ’’انهم كانوا اذا قیل لهم لا اله الا الله-یستكبرون(۳۵) و یقولون اىنا لتاركوا الهتنا لشاعر مجنون‘‘(الصافات: ۳۵ ۳۶) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تووہ تکبر کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑدیں۔ اور اسی عقیدے کی بنیاد پر کفار بتوں سے اپنی حاجتیں طلب کرتے تھےاور اج بھی کسی انسان یا غیر انسان زندہ یا مردہ کو معبود مان کر اس کی عبادت کرنا اسے دور یا نزدیک سے پکارنا شرک ہے لیکن اگر کوئی یہ عقیدہ نہ رکھتے ہوئے یعنی معبود نہ مان کر کسی کو پکارے یا ندا کرے تو اس کے عمل کو مشرکوں جیسا عمل قرار دیتے ہوئے اسے بھی مشرک قرار دے دینا سراسر جہالت نہیں تو اور کیا ہے ۔ جو پکارنا یا ندا کرنا شرک ہے وہ ہر حال میں شرک ہے چاہے انسان سے ہو یا غیر انسان سے زندہ سے ہو یا فوت شدہ سے دور سے ہو یا نزدیک سے اور جو ندا شرک نہیں وہ کسی بھی حال میں شرک نہیں۔ ندا یا سوال کے شرک ہونے کا دارومدار پکارنے والے کے عقیدے پر ہے اگر وہ معبود اور خدا مان کر پکارتا ہے تو یہ شرک ہے اب چاہے دور سے پکارے یا نزدیک سے زندہ کو پکارے یا فوت شدہ کو اور اگر اس کا یہ عقیدہ نہیں توشرک ہر گز نہیں لہذا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو پکارنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ کوئی بھی کلمہ گو مسلمان اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معبود نہیں سمجھتا اور نہ ان کی عبادت کرتا ہے بلکہ ہر نماز میں وہ کئی بار یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’اشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ عزوجل کے بندے اور رسول ہیں۔ یونہی اللہ تعالی کے نیک بندوں کو پکارنے والا ان سے سوال کرنے والا انہیں معبود سمجھ کر ہر گز نہیں پکارتا بلکہ اللہ عزوجل کا بندہ سمجھ کر اور اللہ عزوجل کی عطا سے پکار سننے والا جان کر پکارتا ہے لہذا ا س کایہ عمل بھی ہر گز شرک نہیں۔