Surah Al Araf Ayat 28 (7:28)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَاؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کواسی پر پایا تھا اوراللہ نے (بھی) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ (اے حبیب!) تم فرماؤ: بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب کوئی بے حیائی کریں تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و اذا فعلوا فاحشة:اور جب کوئی بے حیائی کریں۔} ’’فاحشة‘‘یعنی بے حیائی کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت مجاہد رضی اللہ تعالی عنہم فرماتے ہیں : اس سے مراد زمانہ جاہلیت کے مرد و عورت کا ننگے ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف کرنا ہے۔ حضرت عطاء رحمۃاللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ بے حیائی سے مراد شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام صغیرہ کبیرہ گناہ اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہے۔ جب کفار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر ان کی مذمت کی گئی تو اس پر انہوں نے اپنے قبیح افعال کے دو عذر بیان کئے ایک تویہ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہذا ان کی اتباع میں یہ بھی کرتے ہیں۔ اس عذر کا بار بار قران میں رد کردیا گیا کہ یہ اتباع تو جاہل وبدکار کی اتباع ہوئی اور یہ کسی صاحب عقل کے نزدیک جائز نہیں۔ اتباع تو اہل علم و تقوی کی کی جاتی ہے نہ کہ جاہل گمراہ کی۔ ان کادوسرا عذر یہ تھا کہ اللہ عزوجل نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے۔ یہ محض افتراء و بہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالی اس کارد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم جواب میں فرماؤ: بیشک اللہ عزوجل بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ عزوجل پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں ‘‘اللہ عزوجل نے بے حیائی کا نہیں بلکہ ان چیزوں کا حکم دیا ہے جو بعد والی ایت میں مذکور ہیں۔