Surah Al Araf Ayat 4 (7:4)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىٕلُوْنَ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا، یا (جب) وہ دوپہر کو سورہے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا یا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و كم من قریة اهلكنها:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں۔} اللہ تعالی نے اس سے پہلی ایات میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ڈر سنانے اور تبلیغ جاری رکھنے کا حکم فرمایا اور امت کو قران پاک کی پیروی کا حکم دیا اب حکم الہی کی پیروی چھوڑ دینے اور اس سے اعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے انجام کی صورت میں بتائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت ایا یاجب وہ دوپہر کو سورہے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروف راحت تھے۔ نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی اور نہ کوئی قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے بلکہ اچانک آگیا اور وہ بھاگنے کی کوشش بھی نہ کرسکے۔ اس سے کفار کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اسباب امن و راحت پر مغرور نہ ہوں عذاب الہی جب آتا ہے تو دفعۃ آجاتا ہے۔