Surah Al Araf Ayat 44 (7:44)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّاؕ-قَالُوْا نَعَمْۚ-فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اسے سچا پایا تو کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہاں ،پھر ایک ندا دینے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ظالموں پراللہ کی لعنت ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے ہاں اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر ۔
Tafseer (Urdu)
{ و نادى اصحب الجنة اصحب النار:اور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جنت والے جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب عزوجل نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجرو ثواب پاوگے ہم نے تو اسے سچا پایا کیا تم لوگوں نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے رب عزوجل نے کفرو نافرمانی پر عذاب کا وعدہ کیا تھا وہ جواب میں کہیں گے: ہاں ہم نے بھی اسے سچا پایا۔ قیامت کے دن جنتی مسلمان گنہگار مسلمانوں کو طعنہ نہ دیں گے: یہاں دوزخ والوں سے مراد کفار جہنمی ہیں نہ کہ گنہگار مومن کیونکہ جنتی مسلمان ان گنہگاروں کو طعنہ نہ دیں گے بلکہ ان کی شفاعت کرکے وہاں سے نکالیں گے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا۔ یہاں ایت میں مسلمانوں کے ساتھ اللہ عزوجل کے اسی وعدے کی تکمیل کا بیان ہے جو قران میں مذکور ہے: ’’ ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربكم فامنا ﳓ ربنا فاغفر لنا ذنوبنا و كفر عنا سیاتنا و توفنا مع الابرار(۱۹۳) ربنا و اتنا ما وعدتنا على رسلك و لا تخزنا یوم القیمة-انك لا تخلف المیعاد(۱۹۴)فاستجاب لهم ربهم انی لا اضیع عمل عامل منكم من ذكر او انثى-بعضكم من بعض-فالذین هاجروا و اخرجوا من دیارهم و اوذوا فی سبیلی و قتلوا و قتلوا لاكفرن عنهم سیاتهم و لادخلنهم جنت تجری من تحتها الانهر-ثوابا من عند الله-و الله عنده حسن الثواب(۱۹۵)‘‘ (ال عمران:۱۹۳تا۱۹۵) ترجمہ کنزالعرفان: اے ہمارے رب!بیشک ہم نے ایک ندادینے والے کو ایمان کی ندا (یوں ) دیتے ہوئے سنا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے ائے پس اے ہمارے رب !تو ہمارے گنا ہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں مٹادے اور ہمیں نیک لوگوں کے گروہ میں موت عطا فرما۔ اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کرنا۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گاوہ مرد ہو یا عورت ۔تم آپس میں ایک ہی ہوپس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اورانہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ)اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔ جنتیوں کا جہنمیوں سے کلام کرنا ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے کیلئے ہوگا کیونکہ دنیا میں عموما کافر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور انہیں طعنے دیتے تھے اور ان پر پھبتیاں کستے تھے۔ اج اس کا بدلہ ہورہا ہوگا۔ { فاذن مؤذن:پھر ایک ندا دینے والا پکارے گا ۔}پکارنے والے حضرت اسرافیل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں یا دوسرا فرشتہ جس کی یہ ڈیوٹی ہوگی اور ظالمین سے مراد کفار ہیں جیسا کہ اگلی ایت سے معلوم ہو رہا ہے۔