Surah Al Araf Ayat 50 (7:50)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُؕ-قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجہنمی جنتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں کچھ پانی دیدو یا اس رزق سے کچھ دیدو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ جنتی کہیں گے: بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا کچھ فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ و نادى اصحب النار:اورجہنمی پکاریں گے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ جب اعراف والے جنت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی کچھ لالچ ہوگی اور وہ عرض کریں گے :یارب! جنت میں ہمارے رشتہ دار ہیں ہمیں اجازت عطا فرما کہ ہم انہیں دیکھ سکیں اور ان سے بات کرسکیں۔چنانچہ انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو جنت کی نعمتوں میں دیکھیں گے اور پہچانیں گے لیکن اہل جنت ان دوزخی رشتہ داروں کو نہ پہچانیں گے کیونکہ دوزخیوں کے منہ کالے ہوں گے صورتیں بگڑ گئی ہوں گی توو ہ جنتیوں کو نام لے لے کر پکاریں گے کوئی اپنے باپ کو پکارے گا کوئی بھائی کو اورکہے گا ہائے میں جل گیا مجھ پر پانی ڈالو اور تمہیں اللہ عزوجل نے جو رزق دیا ہے ان نعمتوں میں سے کھانے کو دو۔ ان کی پکار سن کر جنتی کہیں گے: بیشک اللہ عزوجل نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۵۰ ۲ / ۹۸) جنتی مومن کو جہنمی کافر سے نہ محبت ہو گی نہ اسے اس پر رحم ائے گا: اس ایت سے معلوم ہوا کہ جنتی مومن کو دوزخی کافر سے بالکل محبت نہ ہو گی اور نہ ہی اس پر رحم ائے گا اگرچہ اس کا سگا باپ یا بیٹا یابہترین دوست ہو وہ اس کے مانگنے پر بھی ادھر کچھ نہ پھینکے گا ۔ خیال رہے کہ یہاں حرام سے مراد شرعی حرام نہیں کیونکہ وہاں شرعی احکام جاری نہ ہوں گے بلکہ مراد کامل محرومی ہے۔ نیز جنتیوں کا جہنمیوں کی مدد نہ کرنا کافر جہنمیوں کے متعلق ہے ورنہ جہنم کے مستحق مسلمانوں میں سے بہت سے گناہگاروں کونیک رشتے داروں کی شفاعت نصیب ہوگی جیسے حافظ قران کے بارے میں حدیث میں تصریح ہے۔