Surah Al Araf Ayat 61 (7:61)
The Heights · Juz 8 · Makki
قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ 61
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرمایا: اے میری قوم !مجھ میں کوئی گمراہی نہیں لیکن میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ قال یقوم:کہا اے میری قوم ۔} قوم کے سرداروں کا جہالت و سفاہت سے بھرپور جواب سن کر کمال خلق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا کہ’’ اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی کی بات نہیں بلکہ میں تو اپنے رب عزوجل کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں کیونکہ جب دنیاوی بادشاہ کسی ناتجربہ کار اور جاہل کو اپنا وزیر نہیں بناتا یا کوئی اہم عہدہ نہیں سونپتاتواللہ تبارک وتعالی جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ کیسے کسی بے وقوف یا کم علم کو منصب نبوت سے سرفراز فرما سکتا ہے اور میرا کام تو اپنے رب عزوجل کے پیغامات تم تک پہنچانا اور تمہاری بھلائی چاہنا ہے۔ نبوت اور گمراہی جمع نہیں ہو سکتی: ایت نمبر61 سے معلوم ہوا کہ نبوت اور گمراہی دونوں جمع نہیں ہو سکتیں اور کوئی نبی ایک ان کے لئے بھی گمراہ نہیں ہو سکتے ۔ اگر نبی ہی گمراہ ہوں تو پھر انہیں ہدایت کون کرے گا۔ مبلغ کو چاہیے کہ مخاطب کی جہالت پر شفقت و نرمی کا مظاہرہ کرے: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی بکواس اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جواب کی طرف نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نہایت حلیم و کریم بزرگ تھے کہ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ دئیے گئے جواب کے مقابلے میں نہایت شفقت و محبت اور خیرخواہی کے ساتھ جواب عطا فرما رہے ہیں اور یہ وہی تعلیم ہے جو اللہ عزوجل نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمائی تھی۔ چنانچہ فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے اللہ عزوجل نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام سے فرمایا : ’’فقولا له قولا لینا لعله یتذكر او یخشى‘‘ (طہ:۴۴) ترجمہ کنزالعرفان: توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا (اللہ سے)ڈرجائے۔ اور یہ وہی حکم ہے جو اللہ عزوجل نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے: ’’ ادع الى سبیل ربك بالحكمة و الموعظة الحسنة و جادلهم بالتی هی احسن-ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبیله و هو اعلم بالمهتدین‘‘ (النحل:۱۲۵) ترجمہ کنزالعرفان:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاو اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ اس سے مبلغین کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کہ مخاطب کی جہالت پر برانگیختہ ہونے کی بجائے حتی الامکان نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا جائے ۔