Surah Al Araf Ayat 72 (7:72)
The Heights · Juz 8 · Makki
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ 72
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ساتھ نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{ فانجینه:تو ہم نے اسے نجات دی۔} اس ایت میں قوم عاد پر نازل ہونے والے عذاب کا ذکر ہے۔ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا واقعہ: اس کامختصر واقعہ یہ ہے کہ قوم عاد احقاف میں رہتی تھی احقاف عمان اور حضر موت کے درمیان علاقہ یمن میں ایک ریگستان ہے۔ قوم عاد نے زمین کو فسق سے بھر دیا تھا۔ یہ لوگ بت پرست تھے ان کے ایک بت کا نام’’ صدائ‘‘اور ایک کا ’’صمود‘‘ اور ایک کا ’’ ہبائ‘‘ تھا۔ اللہ تعالی نے ان میں حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کو معبوث فرمایا آپ نے انہیں توحید کا حکم دیا شرک وبت پرستی اور ظلم و جفا کاری کی ممانعت کی لیکن وہ لوگ نہ مانے اورآپ کی تکذیب کرنے لگے اور کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ان میں سے صرف چند ادمی حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے جو بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی مجبورا اپنا ایمان چھپائے رکھتے تھے۔ ان مومنین میں سے ایک شخص کا نام مرثدبن سعد تھا وہ اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے ۔جب قوم نے سرکشی کی اور اپنے نبی حضرت ہودعلیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی اور زمین میں فساد کیا اور ستم گاریوں میں زیادتی کی اور بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں تو اللہ تعالی نے ان پر بارش روک دی تین سال بارش نہ ہوئی اب وہ بہت مصیبت میں مبتلا ہوئے اور اس زمانہ میں دستور یہ تھا کہ جب کوئی بلایا مصیبت نازل ہوتی تھی تو لوگ بیت الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالی سے اس مصیبت کو دور کرنے کی دعا کرتے تھے اسی لئے ان لوگوں نے ایک وفد بیت اللہ کو روانہ کیا اس وفد میں تین ادمی تھے جن میں مرثد بن سعد بھی تھے یہ وہی صاحب ہیں جو حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے تھے اور اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے۔ اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں عمالیق کی سکونت تھی اور ان لوگوں کا سردار معاویہ بن بکر تھا اس شخص کا ننھیال قوم عاد میں تھا اسی علاقہ سے یہ وفد مکہ مکرمہ کے حوالی میں معاویہ بن بکر کے یہاں مقیم ہوا۔ اس نے ان لوگوں کی بہت عزت کی اور نہایت خاطر و مدارت کی یہ لوگ وہاں شراب پیتے اور باندیوں کا ناچ دیکھتے تھے۔ اس طرح انہوں نے عیش و نشاط میں ایک مہینہ بسر کیا ۔ معاویہ کو خیال آیا کہ یہ لوگ تو راحت میں پڑ گئے اور قوم کی مصیبت کو بھول گئے جو وہاں گرفتار بلا ہے مگر معاویہ بن بکر کو یہ خیال بھی تھا کہ اگر وہ ان لوگوں سے کچھ کہے تو شاید وہ یہ خیال کریں کہ اب اس کو میزبانی گراں گزرنے لگی ہے اس لئے اس نے گانے والی باندی کو ایسے اشعار دیئے جن میں قوم عاد کی حاجت کا تذکرہ تھا جب باندی نے وہ نظم گائی تو ان لوگوں کویاد آیا کہ ہم اس قوم کی مصیبت کی فریاد کرنے کے لئے مکہ مکرمہ بھیجے گئے ہیں۔ اب انہیں خیال ہوا کہ حرم شریف میں داخل ہو کر قوم کے لئے پانی برسنے کی دعا کریں اس وقت مرثد بن سعد نے کہا کہ اللہ عزوجل کی قسم تمہاری دعا سے پانی نہ برسے گا البتہ اگر تم اپنے نبی کی اطاعت کرو اوراللہ تعالی سے توبہ کروتو بارش ہو گی اس وقت مرثد نے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا۔ ان لوگوں نے مرثدکو چھوڑ دیا اور خود مکہ مکرمہ جا کر دعا کی اللہ تعالی نے تین قسم کے بادل بھیجے ایک سفید ایک سرخ اور ایک سیاہ۔ اس کے ساتھ آسمان سے ندا ہوئی کہ اے قیل! اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے ان میں سے ایک بادل اختیار کر اس نے اس خیال سے سیاہ بادل کو اختیار کیا کہ اس سے بہت پانی برسے گا چنانچہ وہ بادل قوم عاد کی طرف چلا اور وہ لوگ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے مگر اس سے ایک ہوا چلی جو اس شدت کی تھی کہ اونٹوں اور آدمیوں کو اڑا اڑا کر کہیں سے کہیں لے جاتی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ لوگ گھروں میں داخل ہوئے اور اپنے دروازے بند کرلئے مگر ہوا کی تیزی سے بچ نہ سکے اس نے دروازے بھی اکھیڑ دیئے اور ان لوگوں کو ہلاک بھی کردیا اور قدرت الہی سے سیاہ پرندے نمودار ہوئے جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا ۔حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام مومنین کو لے کر قوم سے جدا ہوگئے تھے اس لئے وہ سلامت رہے قوم کے ہلاک ہونے کے بعدوہ ایمانداروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے اور آخر عمر شریف تک وہیں اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہے۔