Surah Al Araf Ayat 81 (7:81)
The Heights · Juz 8 · Makki
اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ 81
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم لوگ حد سے گزرے ہوئے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے ۔
Tafseer (Urdu)
{ انكم لتاتون الرجال شهوة:بیشک تم مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو۔} یعنی ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو اور وہ عورتیں جنہیں اللہ عزوجل نے تمہارے لئے حلال کیا ہے انہیں چھوڑتے ہو۔ انسان کو شہوت اس لئے دی گئی کہ نسل انسانی باقی رہے اور دنیا کی آبادی ہو اور عورتوں کو شہوت کا محل اور نسل چلانے کا ذریعہ بنایا کہ ان سے معروف طریقے کے مطابق اور جیسے شریعت نے اجازت دی اس طرح اولاد حاصل کی جائے جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوت کے مقصد صحیح کو فوت کردیا کیونکہ مرد کو نہ حمل ہوتا ہے اورنہ وہ بچہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے۔ علمائے تاریخ کا بیان ہے کہ قوم لوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غلے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے زمین کا دوسرا خطہ اس کی مثل نہ تھا۔ اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بدفعلی کرو اس طرح یہ فعل بدانہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا۔