Surah Al Araf Ayat 86 (7:86)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًاۚ-وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ۪-وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کے راستے سے ایمان لانے والوں کو روکو اور تم اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے تواس نے تمہاری تعداد میں اضافہ کردیا اور دیکھو ، فسادیوں کا کیسا انجام ہوا؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھادیا اور دیکھو فسادیوں کا کیسا انجام ہوا۔
Tafseer (Urdu)
{ و لا تقعدوا بكل صراط:اور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو ۔} یہ لوگ مدین کے راستوں پر بیٹھ جاتے تھے اور ہر راہ گیر سے کہتے تھے کہ مدین شہر میں ایک جادوگر ہے یہ بھی کہا گیا کہ ان کے بعض لوگ مسافروں پر ڈکیتیاں ڈالتے تھے۔ { و اذكروا:اور یاد کرو۔}تم تھوڑے تھے تمہیں بہت کر دیا غریب تھے امیر کر دیا کمزور تھے قوی کر دیا ان نعمتوں کا تقاضا ہے کہ تم اس کا شکریہ ادا کرو کہ مجھ پر ایمان لاو۔ { و انظروا:اور دیکھو۔} یعنی پچھلی امتوں کے احوال اور گزرے ہوئے زمانوں میں سرکشی کرنے والوں کے انجام و مال عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور سوچو۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ کلام بھی حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔ اپ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے سے پہلی امتوں کے تاریخی حالات معلوم کرنا قوم کے بننے بگڑنے سے عبرت پکڑنا حکم الہی ہے۔ ایسے ہی بزرگان دین کی سوانح عمریاں اور خصوصا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ بہترین عبادت ہے اس سے تقوی رب عزوجل کا خوف اور عبادت کا ذوق پیدا ہو تا ہے۔