Surah Al Araf Ayat 88 (7:88)
The Heights · Juz 9 · Makki
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاؕ-قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَﭦ 88
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کی قوم کے متکبر سردار کہنے لگے: اے شعیب ! ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ۔ فرمایا: کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس کی قوم کے متکبر سردار بولے اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکا ل دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ قال الملا الذین استكبروا من قومه:اس کی قوم کے متکبر سردار کہنے لگے۔} اس سے پہلی ایات میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنی قوم کو کیے گئے وعظ و نصیحت کا بیان ہوا اپ علیہ الصلوۃ والسلام کا وعظ و نصیحت سن کر اپ کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے اور پیروی کرنے سے تکبر کیا تھا ان کے جواب کا ذکر اس ایت میں فرمایا گیا ہے چنانچہ فرمایا گیا کہ’’ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے متکبر سردار ان کی نصیحتیں سن کر کہنے لگے : اے شعیب ! ہم قسم کھاتے ہیں کہ ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یعنی اصل مقصود تو اپ کونکالنا ہے اور اپ کی وجہ سے اپ کے مومن ساتھیوں کو بھی نکال دیں گے۔(ابو سعود الاعراف تحت الایۃ: ۸۸ ۲ / ۲۷۲) قوم کی ہلاکت کا باعث ا س کے رہنما: حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے سردار وں کی بے ادبی ان کی ہلاکت کا سبب بنی اس سے معلوم ہوا کہ قوم کے سردار قوم کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں اگر یہ درست ہو جائیں تو قوم کواعلی درجے پر پہنچا دیتے ہیں اور بگڑ جائیں تو ذلت کی گہری کھائیوں میں گرا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماوں کے اعمال اخلاق اور کردار کی درستی نے جہاں مسلم عوام کی سیرت و کردار کو بدل کر رکھ دیا وہیں غیر مسلم بھی اس سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں سے بہت سے دامن اسلام سے وابستہ ہو گئے جبکہ بہت سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی سے باز ا گئے اسی طرح جب مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماوں کے اعمال اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا ہوا اور وہ عیش و طرب اور لہو ولعب کی زندگی گزارنے میں مشغول ہو گئے تو مسلم عوام کی عملی اور اخلاقی حالت ا س قدر گر گئی کہ ہنو د ویہود تک ان کا حال دیکھ کر شرما گئے اوراسی وجہ سے کفار کے دلوں سے مسلمانوں کا خوف اور دبدبہ جاتا رہا اور وہ ایک ایک کر کے مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے اور اج مسلمانوں کا حا ل یہ ہے کہ وہ پچاس سے زائد ممالک میں تقسیم ہیں اور دنیا کے انتہائی قیمتی ترین وسائل کے مالک ہونے کے باوجود کفار کے قبضے میں ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ { او لتعودن فی ملتنا:یا تم ہمارے دین میں آجا ؤ۔} اس کا لفظی معنی یہ بنتا ہے کہ ’’یا تم ہمارے دین میں لوٹ او‘‘ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاذاللہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام پہلے ان کے دین میں داخل تھے تبھی تو انہوں نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو واپس لوٹ انے کی دعوت دی مفسرین نے اس اشکال کے چند جوابات دئیے ہیں ان میں سے 3درج ذیل ہیں : (1)…حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے چونکہ پہلے کافر تھے تو جب اپ کی قوم نے اپ کی پیروی کرنے والوں کو مخاطب کیا تو اس خطاب میں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شامل کر کے اپ پر بھی وہی حکم جاری کر دیا حالانکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام تو ان کے دین میں کبھی داخل ہی نہ ہوئے تھے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۸۸ ۲ / ۱۱۹) (2)…کافر سرداروں نے عوام کو شک و شبہ میں ڈالنے کیلئے اس طرح کلام کیا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام پہلے ان کے دین و مذہب پر ہی تھے ۔ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں جو جواب دیا کہ ’’کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں ‘‘ یہ ان کے اس اشتباہ کے رد میں تھا۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۸۸ ۵ / ۳۱۶) (3)…حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کفر و شرک سے تو قطعا دور و نفور تھے لیکن ابتداء میں چھپ کر عبادت وغیرہ کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کادین قوم پر ظاہر نہ تھا جس سے انہوں نے یہ سمجھا کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے دین پر ہیں۔