Surah Al Araf Ayat 94 (7:94)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ 94
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہ بھیجامگر ہم نے اس کے رہنے والوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ گڑگڑائیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا کہ وہ کسی طرح زاری کریں۔
Tafseer (Urdu)
{ الا اخذنا اهلها:مگر ہم نے اس کے رہنے والوں کوپکڑا۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے خاص قوموں یعنی حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم الصلوۃ والسلام کی قوموں کے تفصیلی حالات اور ان کے کفر و سرکشی کی وجہ سے ان پر نازل ہونے والے عذاب اور اس کی کیفیت کا ذکر فرمایا اب اس ایت اورا س سے اگلی ایت میں تمام امتوں کے اجمالی حالات اور ایک عام اصول بیان کیا جارہا ہے کہ جس کے تحت سب قوموں سے برتاو ہوتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی کسی علاقے یا شہر میں کوئی نبی علیہ السلام مبعوث کئے گئے تووہ ا س جگہ بسنے والوں کو شرک سے بچنے اللہ عزوجل کو ایک ماننے صرف اسی کی عبادت کرنے اور اس کی بھیجی ہوئی شریعت پر عمل کرنے کی دعوت دیتے۔ اپنی صداقت کے اظہار کے لئے روشن معجزات دکھاتے اور اللہ تعالی کے عذاب سے ڈراتے مگر اس کے باوجود جب وہاں کے باسی اللہ عزوجل کے نبی علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیتے اور اتنی واضح اور صاف نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ اتے تو فورا ہی ان پر عذاب نازل نہ کر دیا جاتا بلکہ پہلے انہیں طرح طرح کے مصائب و الام سختیوں اور تکالیف میں مبتلا کر دیا جاتا تاکہ اس طرح ان کا دماغ ٹھکانے ائے اور باطل مذہب چھوڑکر حق مذہب کے سایہ رحمت میں ا جائیں اور اگر یہ طریقہ بھی کارگر ثابت نہ ہوتا تو پھر ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھول دئیے جاتے اولاد کی کثرت مال کی زیادتی عزت و وقار میں اضافہ قوت و غلبہ وغیرہ ہر طرح کی اسائشیں انہیں مہیاکر دی جاتیں تاکہ اس طرح وہ اپنے حقیقی محسن کو پہچان کر اس کی نافرمانی سے باز اجائیں اور اس کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کر لیں لیکن اگر وہ مصائب و الام کے پہاڑ ٹوٹ پڑنے کے بعد بھی غفلت سے بیدار نہ ہوتے اور نعمتوں کی بہتات کے باوجود بھی ان کے دل اپنے مہربان اور کریم پرورد گار عزوجل کی اطاعت و فرماں برداری کی طرف مائل نہ ہوتے تو وہ عذاب الہی کے مستحق ٹھہرتے۔ یہ سب بیان کرنے سے مقصود کفار قریش اور دیگر کفار کو خوف دلانا ہے تاکہ وہ اپنے کفر و سرکشی سے باز ا کر اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اطاعت گزار و فرماں بردار بن جائیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۹۴ ۲ / ۱۲۱ ابو سعود الاعراف تحت الایۃ: ۹۴-۹۵ / ۲۷۷ جمل الاعراف تحت الایۃ: ۹۴ ۳ / ۷۷ ملتقطا۔) { قد مس ابآءنا الضرآء و السرآء:بیشک ہمارے باپ دادا کو(بھی) تکلیف اورراحت پہنچتی رہی ہے۔} جب نافرمان قومیں مصائب والام کا شکار ہوئیں تو اس وقت ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ لوگ ان سختیوں اور تکالیف سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے لیکن وہ یہ کہہ کر اپنے دل کومنا لیتے کہ یہ تباہ کن بارش یا قحط سالی یا زلزلہ یا اندھی طوفان جس نے تباہی و بربادی مچادی اور سب کچھ نیست و نابود کردیا یہ ہمارے باپ دادا کو بھی ایسے ہی تکلیف اور راحت پہنچتی رہی ہے اس میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کا کوئی دخل نہیں اور نہ ہی یہ ہماری کسی اخلاقی کمزوری کاروباری بد دیانتی اور غریبوں پر ظلم وتعدی کی سزا ہے بلکہ یہ سب موسمی تغیرات کا نتیجہ ہیں اور زمانے کا دستور ہی یہ ہے کبھی تکلیف ہوتی ہے کبھی راحت ۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۹۵ ۵ / ۳۲۱ ملخصا) ناگہانی افات اور مسلمانوں کی حالت زار: ان گزری ہوئی قوموں کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے موجودہ حالات پر تھوڑا غور کر لیں اور اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کریں کہ ایسی کون سی مصیبت ہے جس سے ہم دوچار نہیں ہوئے اب بھی طوفان زلزلے سیلاب اتے ہیں لیکن ان سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان کی سائنسی تحقیقات پر غور کیا جاتا ہے اور جو لوگ اس مصیبت میں مبتلا ہوں ان کا تماشا دیکھا جاتا ہے ۔بقیہ ان چیزوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنا توبہ کی طرف راغب ہونا بارگاہ الہی میں رجوع کرنا برے اعمال چھوڑ دینا نیک اعمال میں مشغول ہوجانا ظلم و ستم اور بددیانتی کو چھوڑ دینا یہ سب کچھ پھر بھی نہیں کیا جاتا بلکہ افسوس !ہمارے دل کی سختی کا تو یہ عالم ہے کہ طوفان کا سن کر اللہ عزوجل سے پناہ مانگنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی بجائے خوشی خوشی ساحل سمند رکی طرف طوفان کا نظارہ کرنے دوڑتے ہیں گویا انے والے طوفان جوممکن تھا کہ اللہ عزوجل کا عذاب ہوں اسے بھی اپنی تفریح کا ایک ذریعہ سمجھ لیتے ہیں زلزلہ یا سیلاب کی تباہی دیکھ کر عبرت پکڑنے کی بجائے ان مصیبت زدوں کی جان و مال اور عزت وابرو پر ڈاکے ڈالنے لگ گئے۔ ان مصیبت کے ماروں کے لئے امداد رقص و سرور کی محفلیں سجا کر بے حیاء عورتوں کے ڈانس دکھا کر فحش اور گندے گانے سنا کر جمع کرنے لگ گئے۔ اللہ تعالی ہماری قوم کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ بادل اندھی وغیرہ کو دیکھ کر سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عمل مبارک کیا تھا اسے اس حدیث پاک کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تیز اندھی کو ملاحظہ فرماتے اور جب بادل اسمان پر چھا جاتے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چہرہ اقدس کا رنگ متغیر ہوجاتا اور اپ کبھی حجرہ سے باہر تشریف لے جاتے اور کبھی واپس اجاتے پھر جب بارش ہو جاتی تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ’’ اے عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا! مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل اللہ عزوجل کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجا گیا ہو۔( شعب الایمان الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۱ / ۵۴۶ الحدیث: ۹۹۴)