Surah Nuh Ayat 5 (71:5)
Noah · Juz 29 · Makki
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًا 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariعرض کی: اے میرے رب!بیشک میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanعرض کی اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا۔
Tafseer (Urdu)
{ قال رب: عرض کی: اے میرے رب!۔} یہاں سے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں کی گئی مناجات بیان فرمائی گئی ہیں چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی چار ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچایا اوراس چیز سے ڈرایا جس سے ڈرانے کا اللہ تعالی نے حکم دیا تھاتو قوم نے ان کی بات نہ مانی اور حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کی طرف سے جو احکامات لے کر ائے تھے انہیں رد کر دیااس پر حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اے میرے رب! عزوجل (تو جانتا ہے کہ) میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری توحید اور تیری عبادت کی طرف بلایاتیرے عذاب اور تیری قدرت سے ڈرایا لیکن (ان کے طبعی فتور کی بنا پر) میرے بلانے سے ان کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا اور جتنی انہیں ایمان لانے کی ترغیب دی گئی اتنی ہی ان کی سرکشی بڑھتی گئی اور میں نے جتنی بار انہیں تیری وحدانیت کا اقرار کرنے تیرے احکامات پر عمل کرنے اور تیرے علاوہ تمام معبودوں سے براء ت کا اظہار کرنے کی طرف بلایاتا کہ توانہیں بخش دے توانہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ میری دعوت کو سن نہ سکیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور منہ چھپالئے تاکہ مجھے دیکھ نہ سکیں کیونکہ انہیں اللہ تعالی کے دین کی طرف نصیحت کرنے والے کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا اور وہ اپنے شرک و کفر پر ڈٹ گئے اور بڑا تکبر کیا اور میری دعوت کو قبول کرنا اپنی شان کے خلاف جانا۔ پھر میں نے انہیں محفلوں میں ا س طرف بلند اواز سے ا علانیہ بلایا جس طرف بلانے کا تو نے مجھے حکم دیاتھا پھر میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور اعلانیہ دعوت دینے کی تکرار بھی کی اور ایک ایک سے آہستہ اور خفیہ بھی کہا اور دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( تفسیر طبری نوح تحت الایۃ : ۵-۹ ۱۲ / ۲۴۷-۲۴۸ مدارک نوح تحت الایۃ: ۵-۹ ص۱۲۸۳ خازن نوح تحت الایۃ: ۵-۹ ۴ / ۳۱۲ ملتقطا)