Surah Al Muzzammil Ayat 1 (73:1)
The Enshrouded One · Juz 29 · Makki
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے چادر اوڑھنے والے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے جھرمٹ مارنے والے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها المزمل: اے چادر اوڑھنے والے۔} اس ایت کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وحی نازل ہونے کے ابتدائی زمانے میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے ایسی حالت میں حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ’’یایها المزمل‘‘ کہہ کر ندا کی ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک مرتبہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے اس حالت میں آپ کو ندا کی گئی ’’یایها المزمل‘‘ ۔( خازن المزمل تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۲۰ ابو سعود المزمل تحت الایۃ: ۱ ۵ / ۷۸۲-۷۸۳) ایت ’’یایها المزمل‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)…قران پاک میں دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ان کے نام شریف سے پکارا گیا جبکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کی صفات شریف سے ندا کی گئی ہے۔ (2)…ندا کے ا س انداز سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہر ادا پیاری ہے ۔ {قم الیل الا قلیلا: رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے چادر اوڑھنے والے میرے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رات کے تھوڑے حصے میں ارام فرمائیے اور باقی رات نماز اور عبادت کے ساتھ قیام میں گزارئیے اور وہ باقی ادھی رات ہو یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس پر کچھ اضافہ کرلو۔ یعنی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اختیار دیا گیا ہے کہ عبادت خواہ ادھی رات تک کریں یا اس سے کم یعنی تہائی رات تک کریں یا اس سے زیادہ یعنی دو تہائی رات تک کرتے رہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اسی مقدار کے مطابق رات کوقیام فرماتے اور ان میں سے جوحضرات یہ بات نہیں جانتے تھے کہ تہائی رات یا آدھی رات یا دو تہائی رات کب ہوتی ہے تووہ ساری رات قیام میں رہتے اور اس اندیشے سے صبح تک نمازیں پڑھتے رہتے کہ کہیں قیام واجب مقدارسے کم نہ ہوجائے یہاں تک کہ ان حضرات کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ پھر تخفیف ہوئی اور بعض مفسرین کے نزدیک ایک سال کے بعد اسی سورت کی اخری ایت کے اس حصے ’’فاقرءوا ما تیسر منه‘‘ سے یہ حکم منسوخ ہوگیا اور بعض مفسرین کے نزدیک پانچ نمازوں کی فرضیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔یاد رہے کہ اس ایت میں قیام سے مراد تہجد کی نماز ہے۔( خازنالمزملتحت الایۃ:۲-۴ ۴ / ۳۲۰-۳۲۱ مدارک المزمل تحت الایۃ: ۲-۳ ص۱۲۹۲ تفسیر کبیر المزمل تحت الایۃ: ۲-۳ ۱۰ / ۶۸۱-۶۸۲ ملتقطا) امت کے حق میں تہجد کی فرضیت منسوخ ہو چکی ہے: اب رہی یہ بات کہ تہجد کی فرضیت کس کے لئے منسوخ ہوئی اس کے بارے میں علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرما تے ہیں : ا سلام کے ابتدائی دور میں سورہ مزمل کی ان ایات کی وجہ سے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم پر اور اپ کی امت پر تہجد کی نماز فرض تھیپھر تخفیف کی گئی اور پانچ نمازوں کی فرضیت سے امت کے حق میں تہجد کا وجوب منسوخ ہو گیا اور ان کے لئے تہجد کی نماز ادا کرنا مستحب ہو گیا جبکہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے اس کا وجوب باقی رہااس کی دلیل یہ ایت مبارکہ ہے: ’’و من الیل فتهجد به نافلة لك‘‘(بنی اسرائیل:۷۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھویہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے۔ یعنی اپ پر اللہ تعالی نے جو اور عبادات فرض کی ہیں ان کے ساتھ ساتھ مزید تہجد کی نماز پڑھنا بھی خاص اپ کے لئے فرض ہے۔ (خازن المزمل تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۲۱) جمہور مفسرین اور فقہاء کے نزدیک سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد کی فرضیت بھی باقی رہی جبکہ امت کے حق میں منسوخ ہوئی اور دلائل کی رو سے بھی یہی صحیح ہے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ قول جمہور مذہب مختار ومنصور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حق میں (تہجد کی) فرضیت (کا) ہے۔ اسی پرظاہر قرآن عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث مرفوع وارد۔ قال اللہ تعالی : ’’یایها المزمل(۱) قم الیل الا قلیلا‘‘ اللہ تعالی کافرمان ہے: ’’اے چادر اوڑھنے والے! رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔(ت) وقال تعالی : ’’و من الیل فتهجد به‘‘ اور ارشاد فرمایا: ’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو۔( بنی اسرائیل۷۹) ان آیتوں میں خاص حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو امر الہی ہے اور امرا لہی مفید وجوب اور اللہ تعالی کا ’’نافلة‘‘ فرمانا اس وجوب کے منافی نہیں کیونکہ ’’نافلة‘‘ کا معنی ہے زائدہ اب اس ایت کامعنی یہ ہوگا کہ آپ کے فرائض یادرجات میں یہ اضافہ ہے کہ آپ پر یہ لازم واجب ہے کیونکہ فرائض سب سے بڑے درجے اور فضیلت پر فائز کرنے کاسبب بنتے ہیں بلکہ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس ارشاد ’’لك ‘‘ سے ہورہی ہے۔ امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجرور (یعنی حرف ’’ک‘‘) کے ساتھ مقیدکرنا اسی بات کافائدہ دیتاہے (یعنی یہ فرائض میں آپ کے لئے اضافہ ہے) کیونکہ متعارف نوافل صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ اس میں آپ اور دیگر لوگ مشترک ہیں ۔(ت)( فتاوی رضویہ باب الوتر والنوافل ۷ / ۴۰۲-۴۰۳) اور مفتی شریف الحق امجدی رحمۃاللہ تعالی علیہ اس مسئلے کی تحقیق کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’صحیح یہ ہے نماز تہجد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نماز پنجگانہ کی فرضیت کے بعد بھی فرض رہی۔( نزہۃ القاری کتاب التہجد ۲ / ۶۸۳) اور مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’نماز تہجد سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر فرض تھیجمہور کا یہی قول ہے حضور (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی امت کے لئے یہ نماز سنت ہے۔( خزائن العرفان بنی اسرا ئیل تحت الایۃ: ۷۹ ص۵۴۱) جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک امت کی طرح نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بھی تہجد کی فرضیت منسوخ ہو گئی تھی۔ {او زد علیه: یا اس پر کچھ اضافہ کرلو۔} صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’جو شخص دو تہائی رات سونا چاہے اور ایک تہائی عبادت کرنا چاہے تو اسے افضل یہ ہے کہ وہ رات کے پہلے اوراخری تہائی حصے میں سوئے اور درمیان کے تہائی حصے میں عبادت کرے اور اگر ادھی رات میں سونا چاہتا ہے اور ادھی رات میں جاگنا تو بعد والی ادھی رات میں عبادت کرنا افضل ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رب عزوجل ہر رات میں جب پچھلی تہائی باقی رہتی ہے اسمان دنیا پرخاص تجلی فرماتا ہے اور فرماتا ہے ’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے دوں ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی بخشش کر دوں ۔( مسلمکتاب صلاۃ المسافرین وقصرہاباب الترغیب فی الدعاء والذکر فی اخر اللیل والاجابۃ فیہص۳۸۱الحدیث: ۱۶۸(۷۵۸)) اور سب سے بڑھ کر تو حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرنا ہےجیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب نمازوں میں اللہ عزوجل کو زیادہ محبوب نماز داود ہے کہ وہ ادھی رات سوتے اور تہائی رات عبادت کرتے پھر چھٹے حصے میں سوتے تھے(بخاری کتاب احادیث الانبیائ باب احب الصلاۃ الی اللہ صلاۃ داود۔۔۔ الخ ۲ / ۴۴۸ الحدیث: ۳۴۲۰)۔( بہار شریعت حصہ چہارم سنن ونوافل کا بیان نماز تہجد۱ / ۶۷۸ ملخصا) {و رتل القران ترتیلا: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔} اس کا معنی یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ اس طرح قران پڑھو کہ حروف جدا جدا رہیں جن مقامات پر وقف کرنا ہے ان کا اور تمام حرکات (اور مدات) کی ادائیگی کا خاص خیال رہے۔ایت کے اخر میں ’’ ترتیلا‘‘ فرما کر اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ قران پاک کی تلاوت کرنے والے کے لئے ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنا انتہائی ضروری ہے۔( مدارک المزمل تحت الایۃ: ۴ ص۱۲۹۲) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’(قیامت کے دن) قران پڑھنے والے سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور ترقی کی منازل طے کرتا جا اور اس طرح ٹھہر کر پڑھ جس طرح دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھاجہاں تو اخری ایت پڑھے گا اسی کے پاس تیری منزل ہے۔( ترمذی کتاب فضائل القران ۱۸-باب ۴ / ۴۱۹ الحدیث: ۲۹۲۳) قران پاک کی قراء ت سے متعلق چند احکام: یہاں ایت کی مناسبت سے قران مجید کی قراء ت سے متعلق 4ضروری احکام ملاحظہ ہوں (1)…تجوید قران پاک کی ایتمتواتر احادیثصحابہ کرام تابعین اور تمام ائمہ کرام کے مکمل اجماع کی وجہ سے حق اور واجب اور اللہ تعالی کے دین اور شریعت کا علم ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’و رتل القران ترتیلا ‘‘ اسے مطلقا ناحق بتانا کلمہ کفر ہے۔(فتاوی رضویہ ۶ / ۳۲۲-۳۲۳ ملخصا) (2)… قران پاک کو اتنی تجوید سے پڑھنا فرض عین ہے جس سے حروف صحیح ادا ہوں اور غلط پڑھنے سے بچے۔( فتاوی رضویہ ۶ / ۳۴۳ ملخصا) (3)…جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ حروف صحیح ادا کرنے کی رات دن پوری کوشش کرے اور اگر نماز میں صحیح پڑھنے والے کی اقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ ایتیں پڑھے جن کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو کوشش کے زمانے میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نماز نہیں ہوگی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ اج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور صحیح پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی اپنی نمازیں باطل ہیں ۔( بہار شریعت حصہ سوم امامت کا بیان امامت کا زیادہ حقدار کون ہے۱ / ۵۷۰-۵۷۱ ملخصا) (4)…فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراء ت کی جائے تراویح میں متوسط انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے لیکن ایسا پڑھے کہ سمجھ میں اسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے اس لیے کہ ترتیل سے قران پڑھنے کا حکم ہے۔ اج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یعلمون تعلمون کے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا ہے نہ حروف کی تصحیح ہوتی ہے بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پرایک دوسرے سے فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے حالانکہ اس طرح قران مجید پڑھنا حرام اور سخت حرام ہے۔( بہار شریعت حصہ سوم قران مجید پڑھنے کا بیان ۱ / ۵۴۷ ملخصا) ایک اور مقام پر صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنے زمانے کے حفاظ کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یعلمون تعلمون کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انھیں دیکھیے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ الف عین اور ذ ز ظ اور ث س ص ت ط وغیرہا حروف میں فرق نہیں کرتے جس سے قطعا نماز ہی نہیں ہوتی فقیر کو انھیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قران مجید سننا نہ ملا۔ مولا عزوجل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ ما انزل اللہ (یعنی جس طرح اللہ تعالی نے قران پاک نازل فرمایا اسی طرح) پڑھنے کی کوشش کریں ۔ (بہار شریعت حصہ چہارم تراویح کا بیان ۱ / ۶۹۱-۶۹۲) اور فی زمانہ حفاظ کا تو جو حال ہو چکا ہے وہ تو ایک طرف عوام اور مساجد کی انتظامیہ کا حال یہ ہو چکا ہے کہ تراویح کے لئے اس حافظ کو منتخب کرتے ہیں جو قران پاک تیزی سے پڑھے اور جتنا جلدی ہو سکے تراویح ختم ہو جائے اور اس امام کے پیچھے تراویح پڑھنے سے جو تجوید کے مطابق قران پڑھتا ہے ا س لئے دور بھاگتے ہیں کہ یہ دیر میں تراویح ختم کرے گا اور بعض جگہ تو یوں ہوتا ہے کہ تراویح پڑھانے والے کو مسجد انتظامیہ کی طرف سے ٹائم بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے منٹ میں اپ کو تراویح ختم کرنی ہے اور اگراس وقت سے 5منٹ بھی لیٹ ہو جائے تو حافظ صاحب کوسنا دیا جاتا ہے کہ حضرت اج اپ نے اتنے منٹ لیٹ کر دی ائندہ خیال رکھئے گا۔اے کاش کہ مسلمان اپنے وقت کا خیال کرنے کی بجائے اپنی نماز کی حفاظت کی فکر کریں ۔اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے۔امین۔ نوٹ: ترتیل کی حدودان کی تفصیلات اور احکام جاننے کے لئے فتاوی رضویہ جلد نمبر6صفحہ 275 تا 282 کا مطالعہ کیجئے۔