Surah 74
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ (1)
اے چادر اوڑھنے والے ۔
قُمْ فَاَنْذِرْﭪ (2)
کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ۔
وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ (3)
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کرو۔
وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ (4)
اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ (5)
اور گندگی سے دور رہو۔
وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُﭪ (6)
اور زیادہ لینے کی خاطر کسی پر احسان نہ کرو۔
وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْﭤ(7)
اور اپنے رب کے لیے ہی صبر کرتے رہو۔
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ (8)
پھر جب صور میں پھونکا جائے گا۔
فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ (9)
تو وہ دن بڑا سخت دن ہوگا ۔
عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ(10)
کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔
ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ (11)
اسے مجھ پر چھوڑ دوجسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔
وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ (12)
اور اسے وسیع مال دیا۔
وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ (13)
اور سامنے حاضر رہنے والے بیٹے دئیے ۔
وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ (14)
اور میں نے اس کے لیے (نعمتوں کو) خوب بچھا دیا۔
ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَﭪ (15)
پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں ۔
كَلَّاؕ-اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاﭤ(16)
ہرگز نہیں ،یقیناوہ تو ہماری آیتوں سے دشمنی رکھتا ہے ۔
سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاﭤ(17)
جلد ہی میں اسے (آگ کے پہاڑ) صعود پر چڑھاؤں گا۔
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ (18)
بیشک اس نے سوچا اور دل میں کوئی بات ٹھہرالی ۔
فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ (19)
تو اس پر لعنت ہو ، اس نے کیسی بات ٹھہرائی۔
ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ (20)
پھر اس پر لعنت ہو ،اس نے کیسی بات ٹھہرائی ۔
ثُمَّ نَظَرَۙ (21)
پھر نظر اٹھا کر دیکھا۔
ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ (22)
پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔
ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ (23)
پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔
فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ (24)
پھر بولا: یہ تو وہی جادو ہے جو منقول چلتا آرہا ہے۔
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِﭤ(25)
یہ آدمی ہی کا کلام ہے۔
سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ(26)
جلد ہی میں اسے دوزخ میں دھنساؤں گا ۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُﭤ(27)
اور تمہیں کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے؟
لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ (28)
نہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی ۔
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِﭕ(29)
آدمی کی کھال جلا دینے والی ہے ۔
عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَﭤ(30)
اس پر اُنیس داروغہ ہیں ۔
وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىٕكَةً۪-وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْاۙ-لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ-وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَؕ-وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ (31)
اور ہم نے دوزخ کے داروغے فرشتے ہی بنائے اور ہم نے ان کی یہ گنتی کافروں کی آزمائش کیلئے ہی رکھی اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین ہوجائے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور اہلِ کتاب اور مسلمان شک نہ کریں اور تاکہ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ اور کافر کہیں: اس عجیب و غریب بات سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جہنم توانسان کیلئے نصیحت ہی ہے۔
كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ (32)
خبردار! چاند کی قسم ۔
وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ (33)
اور رات کی جب پیٹھ پھیرے ۔
وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ (34)
اور صبح کی جب وہ خوب روشن ہوجائے۔
اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ (35)
بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔
نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ (36)
آدمیوں کو ڈرانے والی ہے ۔
لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَﭤ(37)
اسے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یاپیچھے ہٹنا چاہے۔
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ (38)
ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گروی رکھی ہے۔
اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ (39)
مگر دائیں طرف والے۔
فِیْ جَنّٰتٍﰈ یَتَسَآءَلُوْنَۙ (40)
باغوں میں ہوں گے ۔ وہ پوچھ رہے ہوں گے ۔
عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ (41)
مجرموں سے۔
مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(42)
کون سی چیزتمہیں دوزخ میں لے گئی؟
قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ (43)
وہ کہیں گے:ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے ۔
وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ (44)
اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ (45)
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ باتیں سوچتے تھے۔
وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ (46)
اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔
حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُﭤ(47)
یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔
فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَﭤ(48)
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی۔
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ (49)
تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ (50)
گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں ۔
فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍﭤ(51)
جو شیر سے بھاگے ہوں ۔
بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ (52)
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلے صحیفے ہاتھ میں دیدیے جائیں ۔
كَلَّاؕ-بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَﭤ(53)
ہرگز نہیں بلکہ وہ آخرت سے ڈر تے نہیں ۔
كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ۠ (54)ٝ
سن لو! بیشک وہ نصیحت ہے۔
فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗﭤ(55)
تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے ۔
وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ (56)ٝ
اور وہ اللہ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ۔ وہی لائق ہے کہ(اس سے)ڈرا جائے اور مغفرت فرمانے والاہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

