Surah Al Mursalat Ayat 11 (77:11)
The Emissaries · Juz 29 · Makki
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْﭤ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب رسولوں کو ایک خاص وقت پر جمع کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب رسولوں کا وقت آئے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا الرسل اقتت: اور جب رسولوں کو ایک خاص وقت پر جمع کیا جائے گا۔} اس وقت کے بارے میں مفسرین نے مختلف احتمال بیان کئے ہیں (1)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں رسول اپنی امتوں پر گواہی دینے کے لئے حاضر ہوں گے۔ (2)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں رسول ثواب پا کر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جمع ہوں گے ۔ (3)…اس سے وہ وقت مراد ہو سکتا ہے جس میں رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام سے پوچھا جائے گا کہ (جب انہوں نے تبلیغ کی تو ان کی امتوں کی طرف سے) انہیں کیا جواب دیا گیا اور امتوں سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو (ان کی دعوت کا) کیا جواب دیا۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فلنســٴـلن الذین ارسل الیهم و لنســٴـلن المرسلین‘‘(اعراف:۶) ترجمہ کنزالعرفان: تو بیشک ہم ضرور ان لوگوں سے سوال کریں گے جن کی طرف (رسول) بھیجے گئے اور بیشک ہم ضرور رسولوں سے سوال کریں گے۔( تفسیر کبیر المرسلات تحت الایۃ: ۱۱ ۱۰ / ۷۶۹) {لای یوم اجلت: کس بڑے دن کے لیے انہیں ٹھہرایا گیا تھا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ جھٹلانے والوں کو عذاب دینا ایمان لانے والوں کی تعظیم کرنا اور ان چیزوں کو ظاہر کرنا جن پر ایمان لانے کی مخلوق کو دعوت دی جاتی تھی جیسے قیامت کے ہولناک دن کا قائم ہونااللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری اعمال کا حساب ہونااعمال ناموں کا کھلنا اور میزان کا رکھا جانا وغیرہیہ تمام امور کس بڑے دن کے لئے موخر کئے گئے تھے! اس دن کے لئے موخر کئے گئے تھے جس میں اللہ تعالی تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور تو کیا جانے کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے اور اس کی ہولناکی اور شدت کا کیا عالم ہے۔( تفسیر کبیر المرسلات تحت الایۃ: ۱۲-۱۴ ۱۰ / ۷۶۹-۷۷۰) {ویل یومىذ للمكذبین: اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت کے اس ہولناک دن میں ان لوگوں کے لئے خرابی ہے جو دنیا میں اللہ تعالی کی وحدانیتانبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت مرنے کے بعد زندہ کئے جانے قیامت قائم ہونے اور اعمال کا حساب لئے جانے کے منکر تھے۔ یہ ایت لوگوں کو ایمان لانے کی مزید ترغیب دینے اور ایمان نہ لانے پر عذاب سے مزید ڈرانے کے لئے اس سورت میں 10بار ذکر کی گئی ہے۔( خازن المرسلات تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۳۴۴ صاوی المرسلات تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۲۲۹۳ ملتقطا)