Surah Al Mursalat Ayat 41 (77:41)
The Emissaries · Juz 29 · Makki
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ڈر نے والے سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک ڈر والے سایوں اور چشموں میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ان المتقین: بیشک ڈر نے والے۔} قیامت کے دن کفار پر انے والے مختلف عذابات اور اس دن ان کی ہونے والی رسوائیاں بیان کرنے کے بعد اب اہل ایمان کو ملنے والی نعمتوں کو بیان کیا جا رہا ہے چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو دنیا میں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے تھے وہ اخرت میں جنتی درختوں کے سایوں اور جنت میں جاری چشموں میں ہوں گے اور جن پھلوں سے ان کا جی چاہے گا ان سے لذت اٹھائیں گے اور جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو تم نے دنیا میں کئے تھے مزے سے ایسی لذیذ اورخالص چیزیں کھاؤ اور پیو جن میں ذرا سا بھی طبعی طور پر نقصان کا شائبہ نہیں ۔بیشک نیکی کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں لہذا تم بھی نیکیاں کرو تاکہ ایسی جزا حاصل کر سکو۔( خازن المرسلات تحت الایۃ: ۴۱-۴۴ ۴ / ۳۴۵ مدارک المرسلات تحت الایۃ: ۴۱-۴۴ ص۱۳۱۲ ملتقطا) {و فواكه مما یشتهون: اور پھلوں میں سے جو وہ چاہیں گے۔} اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہل جنت کو دنیوی زندگی کے برخلاف ان کی مرضی کے مطابق جنتی نعمتیں ملیں گی جبکہ دنیا میں آدمی کو جو میسر ہوتا ہے اسی پر اسے راضی ہونا پڑتا ہے۔( جلالین المرسلات تحت الایۃ: ۴۲ ص۴۸۶) {ویل یومىذ للمكذبین: اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔} قیامت کے دن مومن انتہائی عزت وکرامت کے ساتھ ہو گا جبکہ کافر انتہائی ذلت و رسوائی کی حالت میں ہو گا ۔ جب وہ مومن کو انتہائی عزت و کرامت میں دیکھے گا تو اس کی حسرت بڑھ جائے گی اور ا س کے غم اور زیادہ ہو جائیں گے اور یہ بھی روحانی طور پر ایک عذاب ہے اس لئے یہاں فرمایا گیا کہ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔( تفسیر کبیر المرسلات تحت الایۃ: ۴۵ ۱۰ / ۷۷۹-۷۸۰)