IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 8

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(1)

اے محبوب! تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہو اور آ پس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَﭕ(2)

ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَﭤ(3)

وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ (4)

یہی سچے مسلمان ہیں ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ (5)

: جیسے تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا حالانکہ یقینا مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَﭤ(6)

یہ حق بات کے بارے میں اس کے روشن ہوجانے کے بعد تم سے جھگڑتے تھے گویا انہیں آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکا جارہا ہے۔

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ (7)

اور یاد کرو جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہ ہو اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کا ٹ دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ (8)

تاکہ سچ کو سچا کردکھائے اور جھوٹ کو جھوٹاکردکھائے اگرچہ مجرم ناپسند کریں ۔

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(9)

: یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی کہ میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں ۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْۚ-وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ (10)

اور اللہ نے اس کوخوشخبری کیلئے ہی بنایا اور اس لیے کہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَﭤ(11)

یاد کرو جب اس نے اپنی طرف سے تمہاری تسکین کے لئے تم پر اونگھ ڈال دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے وہ تمہیں پاک کردے اور تم سے شیطان کی ناپاکی کو دور کردے اور تمہارے دلو ں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍﭤ(12)

یاد کرو اے حبیب! جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر ضربیں لگا ؤ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۚ-وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(13)

یہ عذاب اس لیے ہواکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ سخت سزا دینے والاہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ(14)

یہ( سزا ہے) تواس کامزہ چکھواور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ کافروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ (15)

اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(16)

اور جو اس دن لڑائی میں ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے یا اپنے لشکر سے ملنے کے علاوہ کسی اور صورت میں انہیں پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکاناجہنم ہے اور بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(17)

: تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے حبیب! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور اس لئے تا کہ مسلمانوں کواپنی طرف سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ(18)

یہ حق ہے اور یہ کہ اللہ کافروں کے مکرو فریب کو کمزور کرنے والا ہے۔

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُۚ-وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْۚ-وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَوْ كَثُرَتْۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ (19)

اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا اور اگر تم با ز ا ٓ جاؤتو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو ہم بھی پھروہی کریں گے اور تمہاراگروہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گااگرچہ بہت زیادہ ہواور مزید یہ کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَﭕ(20)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرواور سن کر اس سے منہ نہ پھیرو۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(21)

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے کہا :ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے ۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(22)

بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْؕ-وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(23)

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگروہ انہیں سنا دیتا تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(24)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةًۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(25)

اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(26)

اور یاد کرو جب تم زمین میں تھوڑے تھے ،دبے ہوئے تھے، تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں تواللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اورتمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(27)

اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ (28)

اور جان لوکہ تمہارے مال اور تمہاری اولادایک امتحان ہے اوریہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(29)

اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق کردینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اوراللہ بڑے فضل والا ہے۔

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَؕ-وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ(30)

اور اے حبیب! یاد کرو جب کافروں نے تمہارے خلاف سازش کی کہ تمہیں باندھ دیں یا تمہیں شہید کردیں یا تمہیں نکال دیں اور وہ اپنی سازشیں کررہے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرمارہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤۙ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(31)

اور جب ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں : بیشک ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہتے توایسا (کلام) ہم بھی کہہ دیتے،یہ صرف پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں ۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(32)

اور جب انہوں نے کہا: اے اللہ اگر یہ (قرآن) ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(33)

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب!تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗؕ-اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(34)

اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں ،اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر جانتے نہیں ۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(35)

اوربَیْتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھا تو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ (36)

بیشک کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب مال خرچ کریں گے پھر وہی مال ان پر حسرت و ندامت ہو جائیں گے پھر یہ مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کو جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ (37)

تاکہ اللہ خبیث کو پاکیزہ سے جدا کردے اور خبیثوں کو ایک دوسرے کے اوپر کر کے سب کو ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے،وہی نقصان پانے والے ہیں ۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ-وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ(38)

تم کافروں سے فرماؤکہ اگر وہ بازآگئے تو جو پہلے گزرچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ دوبارہ (لڑائی) کریں گے تو پہلے لوگوں کادستور گزرچکا۔

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِۚ-فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(39)

اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْؕ-نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ(40)

اور اگریہ روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تمہارامددگارہے ، کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(41)

اور جان لو کہ تم جو مالِ غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ کے لئے اور رسول کے لئے اور (رسول کے) رشتے داروں کیلئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْؕ-وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِۙ-وَ لٰـكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ﳔ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ (42)

جب تم قریب والی جانب تھے اور وہ کافر دور والی جانب تھے اور قافلہ تم سے نیچے والی طرف تھا اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور مدت کے بارے میں تمہارا اختلاف ہوجاتا لیکن کیونکہ اللہ نے اس کام کو پورا کرنا تھا جسے ہوکر ہی رہنا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی واضح دلیل سے زندہ رہے اور بیشک اللہ ضرور سننے والا جاننے والا ہے۔

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًاؕ-وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(43)

۔(اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے اور اگر وہ ان کو زیادہ کرکے تمہیں دکھاتا تو اے مسلمانو! تم ضرور بزدل ہوجاتے اور تم ضرور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے سلامت رکھا، بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًاؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ (44)

اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب لڑتے وقت اللہ تمہیں وہ کافر تمہاری نگاہوں میں تھوڑے کرکے دکھا رہا تھا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کردیا تاکہ اللہ اس کام کوپورا کرے جسے ہوکر ہی رہنا ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا رجوع ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ (45)

اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یادکرو تاکہ فلاح پاؤ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ (46)

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ(47)

اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اپنے گھروں سے اِتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاوا کرتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روک رہے تھے اور اللہ ان کے تمام اعمال کو گھیرے ہوئے ہے۔

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْۚ-فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَؕ-وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ (48)

اور (یاد کرو) جب شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے اور شیطان نے کہا : آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور بیشک میں تمہارا مدد گار ہوں پھر جب دونوں لشکر آ منے سامنے ہوئے تو شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہنے لگا: بیشک میں تم سے بیزار ہوں ۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(49)

جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور جو اللہ پر توکل کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُواۙ-الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْۚ-وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ(50)

اور اگر آپ دیکھتے جب فرشتے کافروں کی ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جان نکالتے ہیں اور (کہتے ہیں ) آگ کا عذاب چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ (51)

یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(52)

جیسا فرعونیوں اور ان سے پہلوں کا طریقہ وہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ (53)

یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَۚ-وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ(54)

جیسا فرعونیوں اور ان سے پہلوں کا طریقہ ،انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ہم نے فرعونیوں کو غرق کر دیااور وہ سب ظالم تھے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ (55)

بیشک جانوروں میں سب سے بدتر، اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا تو وہ ایمان نہیں لاتے۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(56)

وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر وہ ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں ۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(57)

تو اگر تم انہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے (بھی) بھاگ جائیں ، اس امید پر (مارو) کہ شاید انہیں عبرت ہو۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠ (58)

اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْاؕ-اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ(59)

اور ہرگز کا فر یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے ہیں ، بیشک وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(60)

اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے اوراللہ انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گااور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(61)

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہوجاؤ اوراللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُؕ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ (62)

اور (اے حبیب!) اگر وہ تمہیں دھوکہ دینا چاہیں گے تو بیشک اللہ تمہیں کافی ہے۔وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مسلمانوں کے ذریعے تمہاری تائید فرمائی۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْؕ-لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(63)

اور اس نے مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو ملادیا، بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ (64)

اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(65)

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔

اَلْــٴٰـنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًاؕ-فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(66)

اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تود و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِؕ-تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(67)

کسی نبی کے لائق نہیں کہ کافروں کوزندہ قید کرلے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہالے۔ تم لوگ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہواوراللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(68)

اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے ایک حکم لکھا ہو انہ ہوتا، تو اے مسلمانو! تم نے کافروں سے جو مال لیا ہے اس کے بدلے تمہیں بڑا عذاب پکڑلیتا۔

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ (69)

تو اس سے کھاؤ جوحلال پاکیزہ غنیمت تمہیں ملی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤىۙ-اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(70)

اے نبی !جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ،اگر اللہ تمہارے دل میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(71)

اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْاۚ-وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(72)

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور وہ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہ سب ایک دوسرے کے وارث ہیں اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مددمانگیں تو تم پر مدد کرنا واجب ہے مگر یہ کہ ایسی قوم کے خلاف (مدد مانگیں) کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌﭤ(73)

اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(74)

اور وہ جو ایمان لائے اورمہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ مِنْكُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ (75)ٛ

اور جواس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں (وراثت میں ) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔