Surah 86
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ (1)
آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ (2)
اورتمہیں کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟
النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ (3)
خوب چمکنے والا ستارا ہے۔
اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌﭤ(4)
کوئی جان نہیں مگر اس پر نگہبان موجود ہے۔
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَﭤ(5)
انسان کو غور کرنا چاہئے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ (6)
اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔
یَّخْرُ جُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىٕبِﭤ(7)
جو پیٹھ اور سینوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔
اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌﭤ(8)
بیشک اللہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔
یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُۙ (9)
جس دن چھپی باتوں کو جانچا جائے گا۔
فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍﭤ(10)
تو آدمی کے پاس نہ کچھ قوت ہوگی اورنہ کوئی مددگار۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ (11)
اس آسمان کی قسم جولوٹ لوٹ کر برستا ہے ۔
وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ (12)
اور پھاڑی جانے والی زمین کی۔
اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ (13)
بیشک قرآن ضرور فیصلہ کردینے والا کلام ہے ۔
وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِﭤ(14)
اور وہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے۔
اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ (15)
بیشک کافر اپنی چالیں چل رہے ہیں ۔
وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاﭕ(16)
اور میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہوں ۔
فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ (17)
تو تم کافروں کو ڈھیل دو، انہیں کچھ تھوڑی سی مہلت دو۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

