Surah At Taubah Ayat 115 (9:115)
The Repentance · Juz 11 · Madani
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 115
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کردے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا ہے ۔بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{حتى یبین لهم:جب تک انہیں صاف نہ بتادے۔} ایت کا معنی یہ ہے کہ جو چیز ممنوع ہے اور اس سے اجتناب واجب ہے اس پر اللہ تعالی اس وقت تک اپنے بندوں کی گرفت نہیں فرماتا جب تک کہ اس کی ممانعت کا صاف بیان اللہ عزوجل کی طرف سے نہ آجائے لہذا ممانعت سے پہلے اس فعل کے کرنے میں حرج نہیں۔ (مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۱۵ ص۴۵۷ خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۱۵ ۲ / ۲۸۸ ملتقطا)شان نزول : جب مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے منع فرمایا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استغفار کرچکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو اس آیت سے انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت کا بیان ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے سے مواخذہ ہوتا ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۱۵ ۲ / ۲۸۸)اس ایت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں شریعت کی طرف سے ممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔