Surah At Taubah Ayat 122 (9:122)
The Repentance · Juz 11 · Madani
وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ 122
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکل جائیں تو ان میں ہر گروہ میں سے ایک جماعت کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اورجب اِن کی طرف واپس آئیں تووہ اِنہیں ڈرائیں تاکہ یہ ڈر جائیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كان المؤمنون:اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا۔} یعنی علم حاصل کرنے کے لئے سب مسلمانوں کا اپنے وطن سے نکل جانا درست نہیں کہ اس طرح شدید حرج ہوگا توجب سارے نہیں جاسکتے تو ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت جس کا نکلنا انہیں کافی ہو کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کریں اورا س کے حصول میں مشقتیں جھیلیں اور اس سے ان کا مقصود واپس ا کر اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنا ہو تاکہ ان کی قوم کے لوگ اس چیز سے بچیں جس سے بچنا انہیں ضروری ہے۔ (مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲۲ ص۴۵۹) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ قبائل عرب میں سے ہر ہر قبیلہ سے جماعتیں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں اور وہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دین کے مسائل سیکھتے اور فقاہت حاصل کرتے اور اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے احکام دریافت کرتے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انہیں اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی فرماں برداری کا حکم دیتے اور نماز زکوۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں ان کی قوم پر مامور فرماتے۔ جب وہ لوگ اپنی قوم میں پہنچتے تو اعلان کردیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو خدا عزوجل کا خوف دلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے ۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲۲ ۲ / ۲۹۵)یہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا معجزہ عظیمہ ہے کہ بالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑے عرصے میں دین کے احکام کا عالم اور قوم کا ہادی بنادیا ۔ ایت’’و ما كان المؤمنون لینفروا كآفة ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس آیت سے 3مسائل معلوم ہوئے: (1)… علم دین حاصل کرنا فرض ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لئے ممنوع و حرام ہیں اور اسے درپیش ہیں ان کا سیکھنا فرض عین ہے اور اس سے زائدعلم حاصل کرنا فرض کفایہ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ا رشاد فرمایا: ’’ علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔( ابن ماجہ کتاب السنۃ باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم ۱ / ۱۴۶ الحدیث: ۲۲۴) امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ’’ علم سیکھنا نفل نماز سے افضل ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲۲ ۲ / ۲۹۷) (2)… علم حاصل کرنے کے لئے سفر کی ضرورت پڑے تو سفر کیا جائے۔ طلب علم کے لئے سفر کا حکم حدیث شریف میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ا رشاد فرمایا’’ جو شخص طلب علم کے لئے را ہ چلے اللہ عزوجل اس کے لئے جنت کی راہ آسان کرتا ہے۔ (ترمذی کتاب العلم باب فضل طلب العلم ۴ / ۲۹۴ الحدیث: ۲۶۵۵) (3)…فقہ افضل ترین علوم میں سے ہے ۔حدیث شریف میں ہے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کے لئے بہتری چاہتا ہے اس کو دین میں فقیہ بناتا ہے۔ میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی دینے والا ہے۔(بخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ۱ / ۴۲ الحدیث: ۷۱ مسلم کتاب الزکاۃ باب النہی عن المسالۃ ص۵۱۷ الحدیث: ۱۰۰(۱۰۳۷)) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔ (ترمذی کتاب العلم باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ۴ / ۳۱۱ الحدیث: ۲۶۹۰) فقہ احکام دین کے علم کو کہتے ہیں اور اصطلاحی فقہ بھی اس کا عظیم مصداق ہے۔