Surah At Taubah Ayat 19 (9:19)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَﭥ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تم نے حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو اور مسجدِ حرام کی خدمت کرنے (والے) کواس شخص کے برابر ٹھہرا لیا جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کوہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔
Tafseer (Urdu)
{سقایة الحآج:حا جیوں کو پانی پلانے (والے) کو۔} اس ایت سے مراد یہ ہے کہ کفار کو مومنین سے کچھ نسبت نہیں اور نہ ان کے اعمال کو ان کے اعمال سے کوئی نسبت ہے کیونکہ کافر کے اعمال رائیگاں ہیں خواہ وہ حاجیوں کے لئے سبیل لگائیں یا مسجد حرام کی خدمت کریں ان کے اعمال کو مومن کے اعمال کے برابر قرار دینا ظلم ہے۔ (مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۹ ص۴۳۰ ملخصا) شان نزول: روز بدر جب حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ گرفتار ہو کر آئے تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے کہا کہ تم کو اسلام اور ہجرت و جہاد میں سبقت حاصل ہے تو ہم کو بھی مسجد حرام کی خدمت اور حاجیوں کے لئے سبیلیں لگانے کا شرف حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آگاہ کیا گیا کہ جو عمل ایمان کے ساتھ نہ ہوں وہ بے کار ہیں۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۹ ۲ / ۲۲۳)