Surah At Taubah Ayat 45 (9:45)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآپ سے چھٹی وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنے شک میں حیران، پریشان ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم سے یہ چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{انما یستاذنك:اپ سے چھٹی وہی لوگ مانگتے ہیں۔}یعنی جہاد کے موقعہ پر بہانہ بنا کر رہ جانے کی اجازت مانگنا منافقین کی علامت ہے۔ (روح البیان التوبۃ تحت الایۃ: ۴۵ ۳ / ۴۴۲) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان نہ لانا اللہ تعالی کا انکار ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان نہ لانا درحقیقت رب تعالی کا انکار ہے کیونکہ منافق اللہ عزوجل کو تو مانتے تھے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منکر تھے مگر ارشاد ہوا کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ {و ارتابت قلوبهم:اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔} اس طرح کہ اسلام کی حقانیت اور کفر کے بطلان پر انہیں یقین نہیں اور نہ اس کے عکس کا یقین ہے۔ اگر مسلمانوں کو فتح ہوئی تو بولے کہ شاید اسلام برحق ہے اور اگر کفار کو فتح ہو گئی تو بولے کہ شاید یہ لو گ بر حق ہیں ورنہ انہیں فتح کیوں ہوتی۔ یا یہ مطلب ہے کہ انہیں اللہ رسول کے وعدوں پر یقین نہیں اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خبروں پر اطمینان نہیں۔ ایمان تو نام ہی اس چیز کا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہر خبر میں ان کی تصدیق کی جائے۔ تردد تصدیق کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتا ہے۔