Surah At Taubah Ayat 7 (9:7)
The Repentance · Juz 10 · Madani
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۚ-فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا؟ سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں توتم ان کے لیے قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجدحرام کے پاس ہوا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{كیف یكون للمشركین عهد عند الله و عند رسوله:اللہ اور اس کے رسول کے پاس مشرکوں کے لئے کوئی عہد کیسے ہوگا} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکوں کے لئے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس کوئی عہد نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر اور عہد شکنی کیا کرتے ہیں البتہ بنی کنانہ اور بنی ضمرہ وغیرہ جن لوگوں سے تم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اور ان سے کوئی عہد شکنی ظہور میں نہ آئی تو ان کے معاہدہ کی مدت پوری کرو اور معاہدے کی مدت کے اندر جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو اگر وہ اس دوران میں عہد توڑ دیں تو تم بھی ان سے جنگ کرو۔(خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۷ ۲ / ۲۱۸ جلالین التوبۃ تحت الایۃ: ۷ ص۱۵۵-۱۵۶ مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۷ ص۴۲۷ ملتقطا) عہد شکنی حرام ہے: اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو کفار سے کئے ہوئے معاہدے بھی پورے کرنے کا حکم دیا ہے تو اس پر افسوس ہے جو مومن کے ساتھ دھوکہ بازی اوربد عہدی سے باز نہ ائے۔ عہد شکنی حرام ہے چنانچہ حدیث مبارک ہے’’ جس شخص میں یہ چار باتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) جب معاہدہ کرے تو اسے توڑ دے۔ (4)جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ اگر کسی کے اندر ان میں سے ایک عادت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک حصہ موجود ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔( بخاری کتاب الجزیۃ والموادعۃ باب اثم من عاہد ثم غدر ۲ / ۳۷۰ الحدیث: ۳۱۷۸)