Surah At Taubah Ayat 72 (9:72)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 72
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور عدن کے باغات میں پاکیزہ رہائشوں کا (وعدہ فرمایا ہے) اوراللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی یہی ہے بڑی مراد پانی ۔
Tafseer (Urdu)
{وعد الله المؤمنین و المؤمنت جنت:اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے منافقین کے بارے میں وعیدیں اور ان کے لئے تیار کردہ جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اس ایت میں اللہ تعالی نے مومنین سے جس ثواب اور جزاء کا وعدہ فرمایا اسے ذکر فرمایا ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۷۲ ۲ / ۲۶۰) {فی جنت عدن: عدن کے باغات میں۔} ایک قول یہ ہے کہ ’’عدن‘‘ جنت میں ایک خاص جگہ کا نام ہے اور ایک قول یہ ہے کہ عدن جنت کی صفت ہے۔ (تفسیرکبیر التوبۃ تحت الایۃ: ۷۲ ۶ / ۱۰۲) اٹھ جنتوں کے اسماء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ایک روایت یہ ہے کہ جنتیں اٹھ ہیں اورا ن کے نام یہ ہیں (1) دار الجلال۔ (2) دار القرار ۔ (3) دار السلام۔ (4) جنت عدن۔ (5) جنت ماوی۔ (6) جنت خلد۔ (7) جنت فردوس۔ (8) جنت نعیم۔(روح البیان الصف تحت الایۃ: ۱۲ ۹ / ۵۰۸) جنت عدن اور اس کی نعمتیں : جنت عدن کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی نے جنت عدن کو اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے ایک سرخ یاقوت کی اور ایک سبز زبرجد کی ہے مشک کا گارا ہے اس کی گھاس زعفران کی ہے موتی کی کنکریاں اور عنبر کی مٹی ہے۔ (ابن ابی دنیاصفۃ الجنۃ ۶ / ۳۱۹ الحدیث: ۲۰) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جب اللہ تعالی نے جنت عد ن کو پیدا فرمایا تو اس میں وہ چیزیں پیدا فرمائیں جنہیں نہ کسی انکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ایا۔ پھر اللہ تعالی نے جنت عدن سے فرمایا ’’ مجھ سے کلام کر۔ اس نے کہا ’’ قد افلح المؤمنون‘‘ بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ (معجم الاوسط باب الالف من اسمہ احمد ۱ / ۲۱۵ الحدیث: ۷۳۸) { و رضوان من الله اكبر:اور اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے۔} یعنی جنت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ اللہ عزوجل جنتیوں سے راضی ہو گا ۔کبھی نا راض نہ ہوگا ۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۷۲ ۲ / ۲۶۱) یہ نعمت تمام نعمتوں سے اعلی اور عاشقان الہی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ اللہ تعالی کی رضا اور اللہ تعالی کا دیدار کسی عمل کا بد لہ نہ ہو گا بلکہ یہ خاص رب عزوجل کا عطیہ ہو گا۔ ’’ رزقنا اللہ تعالی بجاہ حبیبہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم‘‘ دنیا میں اللہ تعالی کے راضی ہونے کی علامت: کسی بندے سے دنیا میں اللہ تعالی کے راضی ہونے کی ایک علا مت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالی کے نیک بندےراضی ہوں اور اسے نیک اعمال کی توفیق ملے ۔ جب اللہ عزوجل کسی سے راضی ہوتا ہے تو فر شتوں میں اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس سے راضی ہیں تم بھی اس سے راضی ہو جاو پھر تما م زمین والوں کے دلوں میں اس کی محبت پڑ جا تی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام اسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں (کے دلوں) میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ ۲ / ۳۸۲ الحدیث: ۳۲۰۹) اس سے معلوم ہوا کہ بزر گا ن دین کی طرف دلو ں کا مائل ہونا ان کے محبوب الہی ہونے کی علامت ہے ۔