Surah At Taubah Ayat 84 (9:84)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ 84
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مرگئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تصل على احد منهم مات ابدا:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا ۔} اس آیت میں سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا اور اس کا شان نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافقوں کا سردار تھا جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جو مسلمان صالح مخلص صحابی اور کثیر العبادت تھے انہوں نے یہ خواہش کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے باپ عبداللہ بن ابی بن سلول کو کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک عنایت فرمادیں اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن چونکہ اس وقت تک ممانعت نہیں ہوئی تھی اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معلوم تھا کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ عمل بہت سے منافقین کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اس لئے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازہ میں شرکت بھی کی۔ قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ جو بدر میں اسیر ہو کر آئے تھے تو عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتہ انہیں پہنایا تھا۔ حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس کا بدلہ دینا بھی منظور تھا لہذا اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قمیص بھی دیا اور جنازہ بھی پڑھایا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے بعد پھر کبھی سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کسی منافق کے جنازہ میں شرکت نہ فرمائی اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی وہ مصلحت بھی پوری ہوئی۔ چنانچہ جب منافقین نے دیکھا کہ ایسا شدید عداوت والا شخص جب سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں بھی آپ اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اس کے سچے رسول ہیں یہ دیکھ کرایک بڑی تعدادمسلمان ہوگئی۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۸۴ ۲ / ۲۶۸-۲۶۹) کافر فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل: اس ایت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی ا س کی قبر پر کھڑا ہو۔ افسوس! فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہار افسوس کرتے ہیں جیسے ا ن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے۔ ایت کی مناسبت سے ہم یہاں کافرفاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل ذکر کرتے ہیں (1)… اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا ’’اور فسق ہی میں مرگئے‘‘یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآن کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنی کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت ’’ افمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا‘‘(السجدۃ :۳۲)(توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے)میں۔ (2)… فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرض کفایہ ہے اس پر صحابہ اور تابعین رضی اللہ تعالی عنہم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہل سنت و جما عت کا مذہب ہے۔ (3)… جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریق سنت قبر بنائے صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔