Surah Yunus Ayat 101 (10:101)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا (نشانیاں ) ہیں اور نشانیاں اور رسول ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتے جو ایمان نہیں لاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا تھا کہ اس کی تخلیق اور مشیت کے بغیر ایمان حاصل نہیں ہو سکتا اور اس ایت میں اللہ تعالی نے زمین و اسمان میں اللہ تعالی کی ذات اور قدرت پر موجود دلائل میں غورو فکر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ انسان مجبور محض ہے۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان نشانیاں طلب کرنے والے مشرکین سے فرما دیں کہ تم دل کی آنکھوں سے دیکھو اور غور کرو کہ آسمانوں اور زمین میں توحیدباری تعالی کی کیاکیا نشانیاں ہیں اوپر سورج اور چاند ہیں جو کہ دن اور رات کے انے کی دلیل ہیں ستارے ہیں جو کہ طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور اللہ تعالی اسمان سے بارش نازل فرماتا ہے۔ زمین میں پہاڑ دریا دفینے نہریں درخت نباتات یہ سب اللہ تعالی کے واحد ہونے اور ان کا خالق ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۱۰۱ ۶ / ۳۰۶ خازن یونس تحت الایۃ: ۱۰۱ ۲ / ۳۳۶ ملتقطا) توعظمت خدواندی توحید الہی اور قدرت ربانی سمجھانے کیلئے یہی دلائل کافی ہیں اب اگر ان سب دلائل کے باوجود کوئی ایمان نہیں لاتا تو پھر اس کا ارادہ جہنم میں جانے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔