Surah Yunus Ayat 102 (10:102)
Jonah · Juz 11 · Makki
فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْؕ-قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ 102
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو انہیں ان لوگوں کے دنوں جیسے (دنوں ) کا انتظار ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ تم فرماؤ: تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو انہیں کاہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{فهل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلهم:تو انہیں ان لوگوں کے دنوں جیسے (دنوں ) کا انتظار ہے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔} ایت کا معنی یہ ہے کہ ان لوگوں کا طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ گویایہ لوگ گزشتہ امتوں کے دنوں جیسے دنوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنے زمانوں میں کفار کو ان دنوں کے انے سے ڈراتے تھے جن میں مختلف قسم کے عذاب نازل ہوں جبکہ کفار اسے جھٹلاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے عذاب نازل ہونے کی جلدی مچاتے تھے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے کے کفار بھی انہی کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا : اپ ان سے فرما دیں کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۱۰۲ ۶ / ۳۰۷) {ثم ننجی رسلنا و الذین امنوا:پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔} حضرت ربیع بن انس رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالی رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرماتا ہے۔ (تفسیر طبری یونس تحت الایۃ: ۱۰۲ ۶ / ۶۱۷)