Surah Yunus Ayat 104 (10:104)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰـكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ ۚۖ-وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ 104
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari: تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو (جان لو کہ) میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو البتہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا اور مجھے حکم ہے کہ میں ایمان والوں میں سے رہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں گا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{قل یایها الناس:تم فرماؤ اے لوگو!} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ اپنے دین کا اظہار کریں اور یہ اعلان کردیں کہ وہ مشرکین سے علیحدہ ہیں تاکہ مشرکین کے ساتھ رہنے والوں کے بارے میں مشرکوں کے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں اور اللہ تعالی کی عبادت چھپ کر ہونے کی بجائے اعلانیہ ہونے لگے۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اہل مکہ سے فرما دیں کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی حقیقت اور اس کی صحت کی طرف سے کسی شبہ میں مبتلا ہو اور اس وجہ سے غیراللہ کی عبادت میں مشغول ہو تو میں تمہیں اپنے دین کی حقیقت بتادیتا ہوں کہ میں ان بتوں کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم اللہ عزوجل کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہوکیونکہ بت خود مخلوق ہے اورعبادت کے لائق نہیں البتہ میں اس اللہ عزوجل کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کر کے تمہاری جان نکالے گاکیونکہ وہ قادر مختار برحق معبود اور مستحق عبادت ہے اور مجھے حکم ہے کہ میں ایمان والوں میں سے رہوں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر باطل سے جدا رہ کر دین حق پر استقامت کے ساتھ قائم رہوں اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوں۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۱۰۴ ۶ / ۳۰۸ جلالین مع صاوی یونس تحت الایۃ: ۱۰۴ ۳ / ۸۹۵ روح البیان یونس تحت الایۃ: ۱۰۴ ۴ / ۸۷ ملتقطا)