Surah Yunus Ayat 2 (10:2)
Jonah · Juz 11 · Makki
اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ﳳ-قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کی طرف یہ وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤاور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے۔ کافروں نے کہا: بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا لوگوں کو اس کا اچنبھا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اكان للناس عجبا:کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے۔} شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ جب اللہ تبارک وتعالی نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو رسالت سے مشرف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب میں رہنے والے لوگ منکر ہوگئے اور ان میں سے بعضوں نے یہ کہا کہ’’ اللہ عزوجل اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۲ ۲ / ۳۰۰) {قدم صدق:سچ کا مقام ۔} قدم سے اس کی جگہ یعنی مقام مراد ہے اور مفسرین نے قدم صدق کے معنی بیان فرمائے ہیں بہترین مقام جنت میں بلند مرتبہ نیک اعمال نیک اعمال کا اجر اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۲ ۲ / ۳۰۰ صاوی یونس تحت الایۃ: ۲ ۳ / ۸۵۳ ملتقطا) گویا فرمایا گیا کہ مومنین کیلئے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بہترین مقام ہے یا جنت میں بلند مرتبہ ہے یادنیا میں نیک اعمال کی توفیق ہے یا اخرت میں نیکیوں کا اجر ہے یا سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت ہے۔ {قال الكفرون:کافروں نے کہا۔} کفار نے پہلے تو بشر کا رسول ہونا قابل تعجب و انکار قرار دیا اور پھر جب حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزات دیکھے اور یقین ہوا کہ یہ بشر کی قدرت سے بالا تر ہیں تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ساحر بتایا۔ ان کا یہ دعوی تو کذب و باطل ہے مگر اس میں بھی حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کمال اور اپنے عجز کا اعتراف پایا جاتا ہے۔(تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۲ ۶ / ۱۸۷ مدارک یونس تحت الایۃ: ۲ ص۴۶۲ ملتقطا)