Surah Yunus Ayat 23 (10:23)
Jonah · Juz 11 · Makki
فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْۙ-مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا٘-ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب اللہ انہیں بچا لیتا ہے تواس وقت وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمہاری زیادتی صرف تمہارے ہی خلاف ہے ۔ دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہے تواس وقت ہم تمہیں بتادیں گے جوتم کیا کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اے لوگو تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما انجىهم:پھرجب اللہ انہیں بچا لیتا ہے۔} یعنی جب اللہ تعالی طوفان کی موجوں میں پھنسے ہووں اور اپنی ہلاکت کو یقینی جاننے والوں کو اس مصیبت سے بچا لیتا ہے تواس وقت وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اور اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ’’ اے لوگو! تمہاری زیادتی کا وبال تمہاری طرف ہی لوٹے گا اللہ عزوجل کا اس میں کچھ نقصان نہیں۔تم دنیا کی زندگی سے تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھالو پھر تمہیں مرنے کے بعد ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تواس وقت ہم تمہیں بتادیں گے جوتم اچھے برے اعمال کیا کرتے تھے اور ان کی تمہیں جزا دیں گے۔( خازن یونس تحت الایۃ: ۲۳ ۲ / ۳۰۹ صاوی یونس تحت الایۃ: ۲۳ ۳ / ۸۶۳ ملتقطا) مصیبت کے وقت اللہ تعالی کو یاد کرنا اور خوشحالی میں اسے بھول جانا کافروں کا طریقہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں اللہ تعالی کو یاد کرنا اور خوشحالی کے وقت بھول جانا حقیقت میں کافروں کا طریقہ ہے افسوس کے اج کل مسلمان بھی عملی اعتبار سے اس میں مبتلا ہیں۔ اولاد بیمار ہوئی یا خود کو کوئی خطرناک بیماری لگ گئی یا کوئی قریبی عزیز ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوگیا تو نماز ذکر دعا تلاوت صدقہ و خیرات مسجدوں کی حاضری اور مزید بہت کچھ شروع ہوجاتا ہے اور جیسے ہی معاملہ ختم ہوا تو کہاں کی نماز و مسجد اور کہاں کی ذکر و تلاوت دوبارہ پھر اپنی پرانی دنیا میں لوٹ جاتے ہیں۔ مسلمان کا قول تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا جینا مرنا سب اللہ کیلئے ہے لیکن افسوس کہ اج مسلمان کا عمل اس کے خلاف نظر ا رہا ہے۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائےامین۔