Surah Yunus Ayat 26 (10:26)
Jonah · Juz 11 · Makki
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد اور ان کے منھ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{للذین احسنوا الحسنى و زیادة:بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ۔} بھلائی والوں سے اللہ عزوجل کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے اس بھلائی سے جنت مراد ہے اور اس پر زیادت سے مراد دیدار الہی ہے۔ (مدارک یونس تحت الایۃ: ۲۶ ص۴۷۰) احادیث سے بھی ثابت ہے کہ اس ایت میں زیادت سے مراد دیدار الہی ہے چنانچہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالی ان سے فرمائے گا :کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں۔ وہ عرض کریں گے: یارب! عزوجل کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر پردہ اٹھادیا جائے گا تودیدار الہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی ’’ للذین احسنوا الحسنى و زیادة ‘‘ (مسلم کتاب الایمان باب فی قولہ علیہ السلام: ان اللہ لا ینام۔۔۔ الخ ص۱۱۰ الحدیث: ۲۹۷-۲۹۸(۱۸۱)) یہی روایت الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں بھی موجود ہے صحیح بخاری میں ہے ’’امام مجاہد کے علاوہ کے نزدیک ایت میں زیادت سے مراد اللہ تعالی کا دیدار ہے۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ یونس ۱-باب ۳ / ۲۴۳ عمدۃ القاری کتاب التفسیر سورۃ یونس ۱-باب وقال ابن عباس: فاختلط فنبت بالماء من کل لون ۱۳ / ۴۴)