Surah Yunus Ayat 27 (10:27)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَاۙ-وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ-كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًاؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی کے برابر ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ وہی دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی جیسا اور ان پر ذلت چڑھے گی انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں وہی دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین كسبوا السیات:اور جنہوں نے برائیوں کی کمائی کی۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کے اخروی حالات اور انعامات بیان فرمائے اور اس ایت میں اللہ تعالی نے کفار کے چار اخروی احوال بیان فرمائے ہیں۔ (1)…جتنا گناہ ہو گا اتنی ہی سزا ملے گی۔ اس قید سے اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ نیکی اور گناہ میں فرق ہے کیونکہ نیکی کا ثواب ایک سے لے کر سات سوگنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھایا جاتا ہے اور یہ اللہ عزوجل کا فضل و کرم ہے اور گناہ کی سزا اتنی ہی دی جاتی ہے جتنا گناہ ہو اور یہ اللہ عزوجل کا عدل ہے۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۲۷ ۲ / ۳۱۳) (2)… ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ اس میں ان کی توہین اور تحقیر کی طرف اشارہ ہے۔ (3)…انہیں اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ (4)… گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ان کی روسیاہی کا یہ حال ہوگا خدا کی پناہ۔ قیامت کے دن بعض مسلمانوں پر بھی عذاب الہی کے اثار ہوں گے: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن مومن و کافر چہروں ہی سے معلوم ہو جائیں گے۔ رب عزوجل فرماتاہے ’’ یعرف المجرمون بسیمىهم ‘‘ (رحمن:۴۱) ترجمہ کنزالعرفان:مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔ اور فرماتا ہے: ’’ تبیض وجوه و تسود وجوه ‘‘ (ال عمران:۱۰۶) ترجمہ کنزالعرفان: کئی چہرے روشن ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے۔ البتہ کئی مسلمان بھی ایسے ہوں گے جو قیامت کے دن اپنے عذاب کی علامات لئے ہوئے ہوں گے جیسے پیشہ ور بھکاری کے منہ پر گوشت نہ ہوگا چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ادمی سوال کرتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں ائے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا۔ (مسلم کتاب الزکاۃ باب کراہۃ المسالۃ للناس ص۵۱۸ الحدیث: ۱۰۴(۱۰۴۰)) بیویوں میں انصاف نہ کرنے والے کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ا رشاد فرمایا جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں پھر ان میں انصاف نہ کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی۔ (ترمذی کتاب النکاح باب ما جاء فی التسویۃ بین الضرائر ۲ / ۳۷۵ الحدیث: ۱۱۴۴) زکوۃ ادا کرنے میں بخل کرنے والے پر گنجا سانپ مسلط ہو گا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس کو اللہ تعالی مال دے اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دونشان ہوں گے۔ وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘ اس کے بعد حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس ایت کی تلاوت کی ’’ و لا یحسبن الذین یبخلون بما اتىهم الله من فضله هو خیرا لهم-بل هو شر لهم ‘‘ (ال عمران:۱۸۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے وہ ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ یہ بخل ان کے لئے برا ہے۔(بخاری کتاب الزکاۃ باب اثم مانع الزکاۃ ۱ / ۴۷۴ الحدیث: ۱۴۰۳)