Surah Yunus Ayat 28 (10:28)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْۚ-فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے: تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے: تم ہماری عبادت کرتے ہی نہیں تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم نحشرهم جمیعا:اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن سب کواٹھائے گا اور تمام مخلوق کو حساب کی جگہ میں اکٹھا فرمائے گا پھر مشرکوں سے فرمائے گا کہ تم اور تمہارے شریک یعنی وہ بت جن کو تم پوجتے تھے اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ یوں اللہ تعالی مشرکوں کو مسلمانوں سے جدا کر دے گا اور جب مشرکوں سے سوال جواب ہوگا تو اس وقت ایک ساعت ایسی شدت کی ائے گی کہ بت اپنے پجاریوں کی پوجا کا انکار کردیں گے اور اللہ عزوجل کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے نہ دیکھتے تھے نہ جانتے تھے نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو۔ اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللہ عزوجل کی قسم! ہم تمہیں کو پوجتے تھے تو بت کہیں گے: اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم ہمیں پوجتے تھے یا نہیں ہم بہرحال تمہاری عبادت سے بے خبر تھے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۲۳ ۳ / ۸۶۶-۸۶۷) اس ایت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی بتوں کو قوت گویائی دے گا اور وہ اپنے پجاریوں کی مخالفت کریں گے۔ {هنالك تبلوا كل نفس ما اسلفت:وہاں ہر ادمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچ لے گا۔} یعنی اس موقف میں سب کو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے مضر یا مفید مقبول یا مردود اور مشرکوں کو اللہ عزوجل کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کارب ہے اور اپنی ربوبیت میں سچا ہے اور مشرک جن بتوں کو اللہ عزوجل کا شریک ٹھہراتے تھے وہ ان سے غائب ہو جائیں گے یا جو جھوٹی باتیں مثلا بتوں کاان کی شفاعت کرنا گھڑتے تھے وہ سب باطل اور بے حقیقت ثابت ہوں گی۔(مدارک یونس تحت الایۃ: ۳۰ ص۴۷۱-۴۷۲)