Surah Yunus Ayat 34 (10:34)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗؕ-قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو پہلے مخلوق کو بنائے پھر ختم کر کے دوبارہ بنادے ؟ تم فرما دو: اللہ پہلے بناتا ہے پھر ختم کرنے کے بعد دوبارہ بنادے گا تو تم کہاں اوندھے جارہے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ اول بنائے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} اس ایت میں توحید کی حقیقت اور شرک کے بطلان پر ایک اور دلیل بیان کی گئی ہے اور یہ دلیل یوں دی گئی ہے کہ ‘‘اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان مشرکین سے فرما دیں کہ ! کیا وہ بت جنہیں تم معبود مانتے ہو ان میں کوئی ایسا ہے جس میں یہ قدرت ہو کہ وہ بغیر کوئی مثال دیکھے خود ہی مخلوق کو پیدا بھی کرلیتا ہو اور پھر موت کے بعد انہیں پہلے ہی کی طرح دوبارہ بنا بھی دے اس کا جواب ظاہر ہے کہ ایسا کوئی نہیں کیونکہ مشرکین بھی یہ جانتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اللہ عزوجل ہی ہے اور بتوں میں پیدا کرنے کی قوت و قدرت ہرگز نہیں ہے۔ تو فرمایا گیا کہ جب بت کچھ نہیں کرسکتے اور اللہ عزوجل سب کچھ کرسکتا ہے اور وہ پہلی مرتبہ بنانے پر اور فنا کے بعد دوبارہ بنانے پر بھی قادر ہے تو تم کہاں الٹے پھرے جارہے ہو اور ایسی روشن دلیلیں قائم ہونے کے بعد راہ راست سے کیوں منحرف ہوتے ہو۔ (ابوسعود یونس تحت الایۃ: ۳۴ ۲ / ۴۹۲ خازن یونس تحت الایۃ: ۳۴ ۲ / ۳۱۴ ملتقطا)