Surah Yunus Ayat 36 (10:36)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ-اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔بیشک گمان حق کاکوئی فائدہ نہیں دیتا۔ بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما یتبـع اكثرهم الا ظنا:اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔} یعنی ان مشرکین کی اکثریت بتوں کو معبود اور انہیں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا شفیع ماننے میں تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے جس کی ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے اورنہ اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے بلکہ یہ صرف شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بت پرستی کرتے تھے اور انہوں نے کچھ سمجھ کر ہی بت پرستی کی ہوگی۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۳۶ ۲ / ۳۱۵ مدارک یونس تحت الایۃ: ۳۶ ص۴۷۳ ملتقطا) ایت میں ’’اکثر ‘‘فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بعض بت پرست وہ بھی تھے جو جانتے تھے کہ اللہ تعالی ہر نقص سے پاک اور ہر کمال سے متصف ہے لیکن وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے کفر کرتے تھے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۳۶ ۳ / ۸۶۹) {ان الظن لا یغنی من الحق شیــٴـا:بیشک گمان حق کا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔} اس ایت میں ظن سے مراد وہ گمان ہے جو خلاف تحقیق ہو اس میں شک اور وہم بھی داخل ہیں اور یہ کلام کفار کے بارے میں ہے جنہوں نے کفر اختیار کرنے میں اپنے اباو اجداد کی پیروی اور تقلید کی۔ اس تقلید پر دنیا و اخرت میں ان کا کوئی عذر مقبول نہیں البتہ خالص مومن جس کا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے سے عاجز ہے وہ اگر کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جو اللہ تعالی کی وحدانیت پر دلائل قائم کر تا ہے تو وہ اس ایت کا مصداق نہیں بلکہ وہ یقینی طور پر مومن ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ گمان نہیں بلکہ یقین ہے جو کہ واقع کے مطابق ہے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۳۶ ۳ / ۸۶۹)