Surah Yunus Ayat 37 (10:37)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰـكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَﭦ 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے ، ہاں یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ربُّ العالَمین کی طرف سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں پروردگارِ عالم کی طرف سے ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كان هذا القران:اور اس قرآن کی یہ شان نہیں۔} کفار مکہ نے یہ وہم کیا تھا کہ قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خود بنالیا ہے اس آیت میں ان کا یہ وہم دور فرمایا گیا ہے ۔چنانچہ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ عزوجل کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے کیونکہ قران فصاحت و بلاغت اور علوم و اسرار کے جس مرتبے پر ہے وہ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کے شایان شان نہیں۔یہ قران اللہ عزوجل کی طرف سے وحی ہے جسے اس نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر نازل کیا ہے یہ جھوٹ اور افتراء سے منزہ ہے اس کی مثال بنانے سے ساری مخلوق عاجز ہے ۔ ہاں قران تورات اور انجیل وغیرہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جنہیں قران سے پہلے اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر نازل فرمایا اور قران میں لوح محفوظ میں لکھے ہوئے حلال و حرام اور فرائض و احکام کی تفصیل ہے اوریہ بات قطعی و یقینی ہے کہ قران اللہ رب العلمین عزوجل کی طرف سے ہے اسے کسی نے اپنی طرف سے نہیں بنایا اور کوئی فرد بشر اس جیسا کلام پیش ہی نہیں کرسکتا۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۳۷ ۲ / ۳۱۵-۳۱۶) {و تفصیل الكتب:اور لوح محفوظ کی تفصیل ہے۔}اس مقام پر علامہ صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بڑا پیارا کلا م فرمایا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ قران لوح محفوظ کی تفصیل ہے لوح محفوظ میں ما کان وما یکون یعنی جو ہو چکا اور جو ائندہ ہوگا اور دنیا و اخرت میں جو ہونے والا ہے سب کچھ لکھا ہوا ہے( اور جب قران میں لوح محفوظ کی پوری تفصیل ہے) تو جسے قران کے اسرار میں سے کوئی چیز عطا ہوئی اسے لوح محفوظ پر لکھا ہوا جاننے کی حاجت نہیں بلکہ وہ جو چاہے قران ہی سے معلوم کر لیتا ہے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۳۷ ۳ / ۸۷۰)