Surah Yunus Ayat 45 (10:45)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْؕ-قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس دن (اللہ ) انہیں اٹھائے گا گویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہیں تھے، آپس میں ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔ بیشک اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والے نقصان میں رہے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن انہیں اٹھائے گا گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی آپس میں پہچان کریں گے پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم یحشرهم:اور جس دن انہیں اٹھائے گا۔} یہاں قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپ وہ وقت یاد کیجئے جس دن اللہ عزوجل ان مشرکوں کو قبروں سے حساب کی جگہ میں حاضر کرنے کے لئے اٹھائے گا تو اس روز کی ہیبت و وحشت سے یہ حال ہوگا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ گویا وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی کے علاوہ ٹھہرے ہی نہیں تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے طلب دنیا میں اپنی عمریں ضائع کردیں اور اللہ عزوجل کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی وہ بجا نہ لائے تو ان کی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے نیز قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو ایسا پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر قیامت کے دن کے ہولناک اور دہشت امیز مناظر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حالات مختلف ہوں گے کبھی ایسا حال ہوگا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اور جب پہچانیں گے تو کہیں گے جس نے اپنی باقی رہنے والی اخرت کو فانی دنیا کے بدلے بیچ دیا وہ نقصان میں رہا کیونکہ اس نے فانی کو باقی پر ترجیح دی۔ایت کے اخر میں فرمایا کہ انہیں ا س چیز کی ہدایت نہ تھی جو انہیں روز قیامت کے اس خسارے سے نجات دیتی۔( خازن یونس تحت الایۃ: ۴۵ ۲ / ۳۱۷-۳۱۸ مدارک یونس تحت الایۃ: ۴۵ ص۴۷۵ ملتقطا)