Surah Yunus Ayat 48 (10:48)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب آئے گا ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و یقولون:اور کہتے ہیں۔} جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کفار کو عذاب نازل ہونے سے ڈرایا اور ایک عرصہ گزرنے کے باوجود عذاب نہ ایا تو اس وقت کفار نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو یہ عذاب کاوعدہ کب آئے گا۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۴۸ ۶ / ۲۶۲) {قل لا املك لنفسی ضرا و لا نفعا الا ما شآء الله:تم فرماؤ! میں اپنی جان کیلئے نقصان اور نفع کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔}اس ایت میں کفار کے اس قول ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب آئے گا ‘‘ کا جواب دیا گیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دشمنوں پر عذاب نازل کرنے اور دوستوں کے لئے مدد ظاہر کرنے کی قدرت اور اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے اور اللہ تعالی نے اس وعدہ اور وعید کو پورا کرنے کا ایک وقت معین کر دیا ہے اور اس وقت کاتعین اللہ تعالی کی مشیت پر موقوف ہے اور جب وہ وقت ا جائے گا تو وہ وعدہ بہرصورت پورا ہوگا۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۴۹ ۶ / ۲۶۲) اس ایت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ فرما دیں کہ’’میں اپنی جان کیلئے نقصان اور نفع کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کے قادر کئے بغیر میں اپنی جان پر بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتاالبتہ اللہ تعالی جس چیز کا چاہے مجھے مالک و قادر بنا دیتا ہے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۴۹ ۲ / ۳۱۸) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نفع و نقصان کا اختیار ملا ہے: بکثرت ایات اور احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے نفع و نقصان اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قدرت اور اختیار میں دیا ہے جیسے ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ اغنىهم الله و رسوله من فضله‘‘(التوبہ:۷۴) ترجمہ کنزالعرفان:اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ اس سے معلوم ہو اکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی لوگوں کو غنی اور مالدار بناتے ہیں اور دوسروں کو غنی وہی کر سکتا ہے جسے غنی کرنے کی قدرت اور اختیار حاصل ہو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’و لو انهم رضوا ما اتىهم الله و رسوله-و قالوا حسبنا الله سیؤتینا الله من فضله و رسوله-انا الى الله رغبون‘‘(توبہ:۵۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں عطا فرمایا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے ۔ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرمائیں گے ۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔ اس سے معلوم ہو اکہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دیا بھی ہے اور دیں گے بھی اور دیتا وہی ہے جس کے پاس خود ہو۔ صحیح بخاری میں ہے دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وانما انا قاسم واللہ یعطی‘‘ بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ اللہ عزوجل عطا کرتا ہے۔(بخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ۱ / ۴۲ الحدیث: ۷۱) اس سے معلوم ہو اکہ جو چیز جب بھی جس کو اللہ تعالی دیتا ہے وہ حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تقسیم سے ہی ملتی ہے اور اس حدیث پاک میں اللہ تعالی کے دینے اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تقسیم فرمانے کو کسی قید کے بغیر بیان فرمایا گیا ہے کہ نہ زمانے کی قید ہے نہ چیز اور نہ لینے والے کی قید ہےاس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دینا کسی زمانے چیز اور لینے والے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ وہ اللہ تعالی کے دئیے ہوئے میں سے ہر زمانے میں جو چیز جسے جو چاہیں عطا فرتے ہیں۔ نیز بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ اپ نے دین اسلام کو دل سے ماننے والوں اور اس کی حمایت کرنے والوں کو نفع پہنچایا ہے اور ائندہ بھی پہنچائیں گے جیسے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جنت عطا فرمانا حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر تھوڑے سے اٹے اور گوشت میں لعاب دہن ڈال کر سینکڑوں لوگوں کو کھلا دینا غزوہ بدر میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی انکھ زخمی ہونے پر اسے صحیح کر دینا غزوہ احد کے موقع پر حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تیر لگنے سے انکھ نکل جانے پر ان کی انکھ درست کر دینا حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے لئے سورج کو واپس لوٹا کر گئے ہوئے دن کو عصر کردینا غزوہ خیبر کے موقع پر اپ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو ہونے والی اشوب چشم کی بیماری دور کردینا ایک غزوے کے موقع پر 1500 صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر کے سیراب کر دینا اسی طرح وصال ظاہری کے بعد حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالی عنہ کے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر بارش کی دعا کرنے کی عرض پر بارش ہونے کی خوشخبری دینا مزار اقدس پر حاضر ہو کر مغفرت طلب کرنے والے اعرابی کو مغفرت ہو جانے کی بشارت دینا قیامت کے انتہائی سخت لمحات میں امتوں کا حساب شروع کروا کر اولین و اخرین تمام انسانوں جنوں اور حیوانوں کی مدد کرنا گنہگار امتیوں کی شفاعت کرنا حوض کوثر پر پیاسے امتیوں کو سیراب کرنا میزان عمل پر گنہگار امتیوں کے اعمال کے وزن کو بڑھانا اورپل صراط پر کھڑے ہو کر اپنے امتیوں کی سلامتی کی دعائیں مانگنا یہ سب تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نفع پہنچانے کی واضح مثالیں ہیں اور جس طرح اپ نے دین اسلام کے حامیوں کو نفع پہنچایا ہے اسی طرح اسلام کے دشمنوں کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔