Surah Yunus Ayat 5 (10:5)
Jonah · Juz 11 · Makki
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّۚ-یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کونور بنایا اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو ۔ اللہ نے یہ سب حق کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ علم والوں کے لئے تفصیل سے نشانیاں بیان کرتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{هو الذی جعل الشمس ضیآء و القمر نورا: وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بنایا۔} ضیاء سے مراد ذاتی روشنی اور نور سے مراد دوسرے سے حاصل کی ہوئی روشنی ہے۔جب اس روشنی کاتعلق سورج سے ہو تو اسے ضیاء اور چاند سے ہو تو اسے نور کہتے ہیں۔(صاوی یونس تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۸۵۵) {و قدره منازل:اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں۔} چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور یہ بارہ برجو ں میں تقسیم ہیں ہر برج کے لئے2_1 / 3 منزلیں ہیں چاند ہر رات ایک منزل میں رہتا ہے اور مہینہ تیس دن کا ہو تو دو راتیں ورنہ ایک رات چھپتا ہے۔(بغوی یونس تحت الایۃ: ۵ ۲ / ۲۹۰-۲۹۱) ان منزلوں کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے تاکہ تم سالوں کی گنتی اور مہینوں دنوں اور ساعتوں کا حساب جان لو ۔اللہ عزوجل نے یہ سارا نظام عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ اس سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل ظاہر ہوں اور اللہ عزوجل علم والوں کے لئے تفصیل سے نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ وہ ان میں غور کرکے نفع اٹھائیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵ ۲ / ۳۰۲ مدارک یونس تحت الایۃ: ۵ ص۴۶۳ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ علم ریاضی علم ہیئت علم فلکیات وغیرہ بڑے مفید علم ہیں کہ ان سے اللہ عزوجل کی قدرت معلوم ہوتی ہے نیز حسن نیت کے ساتھ ان کا سیکھنا ثواب کا کام ہے۔