Surah Yunus Ayat 6 (10:6)
Jonah · Juz 11 · Makki
اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک رات اور دن کی تبدیلی میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{ان فی اختلاف الیل و النهار:بیشک رات اور دن کی تبدیلی میں۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت اور وحدانیت پر زمین واسمان کی تخلیق سورج اور چاند کے احوال سے دلائل قائم فرمائے اور اس ایت میں دن اور رات کے اختلاف سے حاصل ہونے والے فوائد سے وحدانیت پر دلیل قائم فرمائی۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک دن اور رات کے انے جانےکم اور زیادہ ہونے میں اور جو کچھ اللہ تعالی نے اسمانوں میں پیدا فرمایا جیسے فرشتےسورج چاند ستارے وغیرہ اور جو کچھ زمین میں پیدا فرمایا جیسے حیوان پہاڑ دریانہریں اور درخت وغیرہ ان سب میں اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کیلئے اللہ تعالی کی قدرت اور وحدانیت پر نشانیاں موجود ہیں۔ (تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۶ ۶ / ۲۱۰ جلالین یونس تحت الایۃ: ۶ ص۱۷۰ ملتقطا)ان چیزوں کا نشانیاں ہونا بالکل واضح ہے کہ یہ سب اللہ عزوجل کی تخلیق اور قدرت کی دلیلیں ہیں کہ وہ کتنی عظیم قدرت و عظمت والا ہے جس نے ان سب چیزوں کو وجود بخشا۔ نوٹ:اس سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے سورہ بقرہ ایت164کے تحت مذکور تفسیر ملاحظہ کیجئے۔ ایت کے اخر میں فرمایا کہ متقیوں کیلئے ان چیزوں میں نشانیاں ہیں۔چونکہ ا ن چیزوں میں غور کرکے ایما ن و عرفان صرف خوف خدارکھنے والوں کو میسر ہوتا ہے اس لئے انہی کا ذکر فرمایا۔ بہت سے کافر یہ چیزیں دیکھ کر سرکش ہوجاتے ہیں جیسے اج اکثرسائنس دانوں نے سائنس میں ترقی کرکے خداعزوجل کا انکار کردیا۔