Surah Yunus Ayat 7 (10:7)
Jonah · Juz 11 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین:بیشک وہ لوگ۔} ان ایات میں پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو حشر یعنی مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بعد حشر پر ایمان لانے والوں کا ذکر ہے۔(تفسیرکبیر یونس تحت الایۃ: ۷ ۶ / ۲۱۰ ملخصا)اس ایت میں حشر پر ایمان نہ لانے والوں کی چار صفات بیان فرمائی گئی ہیں : (1)… وہ لوگ اللہ تعالی سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ مفسرین نے اس ایت میں ’’امید‘‘ کے دومعنی بیان کئے ہیں۔ (۱) خوف۔ اس سورت میں ایت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو قیامت کے دن ہم سے ملنے کاخوف نہیں رکھتے تو وہ ثواب اور عذاب کو جھٹلا رہے ہیں۔ (۲) طمع۔ اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا پر مطمئن ہو بیٹھے اور اللہ تعالی کے ثواب کی طمع نہیں رکھتے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۷ ۲ / ۳۰۲) (2)… دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں۔ یعنی انہوں نے اخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا اس تھوڑی سی اور فانی کو بہت زیادہ اور باقی رہنے والی پر ترجیح دی۔(مدارک یونس تحت الایۃ: ۷ ص۴۶۴) (3)… اس پر مطمئن ہوگئے ہیں۔ کفار کا یہ قلبی اطمینان دنیا اور اس کی لذتوں کی طرف میلان کی وجہ سے ہے اسی لئے ان کے دلوں سے ڈر اور خوف نکل گیا اور جب اللہ عزوجل سے ڈرنے اور اس کے عذاب کا خوف دلانے والی باتیں سنتے ہیں تو ان کے دل اس طرف مائل ہی نہیں ہوتے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۷ ۲ / ۳۰۲) (4)… وہ اللہ تعالی کی آیتوں سے غافل ہیں۔ حضرت عبد للہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ یہاں آیات سے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات پاک اور قرآن شریف مراد ہے اور غفلت کرنے سے مراد ان سے اعراض کرنا ہے۔(بغوی یونس تحت الایۃ: ۷ ۲ / ۲۹۱) دنیا اور اخرت سے متعلق مسلمانوں کا حال : یہاں ایت مبارکہ میں کفار کے اعتقاد کے اعتبار سے یہ احوال بیان فرمائے گئے ہیں لیکن عملی طور پر مسلمان بھی ان میں سے بہت سی چیزوں میں ملوث ہیں جیسے دلوں سے قیامت کے حساب کتاب اورعذاب الہی کا خوف نکل جانا دنیا کی زندگی کو ہی پسند کرنا اور اسی کیلئے کوشش کرنا اور اسی پر مطمئن ہوکر بیٹھ جانا قران اور احکامات الہیہ سے غفلت دلوں کا سخت ہونا شدید وعیدیں سن کر بھی گناہوں سے باز نہ انا یہ سب چیزیں ہمارے اندر اس ایت کی روشنی میں افعال کفار کا عکس نہیں دکھا رہیں تو اور کیا ہے {اولىك ماوىهم النار:ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔} یعنی ان لوگوں کے کفر تکذیب اور خبیث اعمال کے بدلے میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۸ ۲ / ۳۰۲)