Surah Yunus Ayat 55 (10:55)
Jonah · Juz 11 · Makki
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariسن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر نہیں جانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{الا ان لله:سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے۔} اس سے پہلی ایت میں بیان ہوا کہ ہر کافر تمنا کرے گا کہ اگر روئے زمین کی تمام چیزیں میری ملک میں ہوتیں تو وہ سب فدیے میں دے دیتا اور اس ایت میں بتایا گیا ہے کہ اس کی ملکیت میں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین و اسمان میں موجود ہر چیز کا مالک اللہ عزوجل ہےاس میں اللہ عزوجل کا اور کوئی شریک نہیں تو قیامت کے دن کسی کافر کے پاس اللہ تعالی کے عذاب سے نجات پانے کیلئے فدیے کے طور پر دینے کیلئے کوئی چیز نہ ہوگی کیونکہ سب چیزوں کا مالک اللہ عزوجل ہے بلکہ کافر خود بھی اللہ عزوجل کی ملک میں ہے تو اس کا فدیہ دینا کیسے ممکن ہے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۸۷۶ خازن یونس تحت الایۃ: ۵۵ ۲ / ۳۱۹ ملتقطا) {الا ان وعد الله حق:سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے جو ثواب اور عذاب کا وعدہ فرمایا ہے وہ سچا ہے اور ضرور پورا ہو گا لیکن ان میں سے اکثر لوگ اپنی عقل کی کمی اور غفلت کے غلبے کی وجہ سے اسے نہیں جانتے اور وہ صرف دنیا کی ظاہری زندگی کو جاننے تک ہی محدود ہیں اسی لئے وہ ایسی غلط باتیں بولتے اور غلط کام کرتے ہیں۔( روح البیان یونس تحت الایۃ: ۵۵ ۴ / ۵۳) {ہو یحی:وہ زندہ کرتا ہے۔} یعنی اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ کسی کی دخل اندازی کے بغیر وہی دنیا میں زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور اخرت میں تم دوبارہ زندہ ہو کر اسی کی طرف لوٹائے جاو گے۔ (روح البیان یونس تحت الایۃ: ۵۶ ۴ / ۵۳)