Surah Yunus Ayat 54 (10:54)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖؕ-وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَۚ-وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ 54
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین میں جو کچھ ہے اگر ہر ظالم جان اس سب کی مالک ہوجائے تو وہ یقینااپنی جان چھڑانے کے معاوضے میں دیدے اور وہ جب عذاب دیکھیں گے تو دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہر ظالم جان زمین میں جو کچھ ہے سب کی مالک ہوتی ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{و لو ان لكل نفس ظلمت ما فی الارض:اور زمین میں جو کچھ ہے اگر ہر ظالم جان اس کی مالک ہوجائے۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں زمین کے اندر جو خزانہ اور مال و دولت ہے یہ سب اگر ہر کافر و مشرک کی ملک میں ہوتا تو وہ یقینااپنی جان چھڑانے کے معاوضے میں دیدیتا اور قیامت کے دن اسے اپنی رہائی کے لئے فدیہ کر ڈالتا لیکن یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کرکے بھی اب رہائی ممکن نہیں۔ جب قیامت میں یہ منظر پیش آئے گا اور کفار کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور کافروں کے سردار عذاب دیکھیں گے تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ اور پشیمان ہوں گے لیکن اپنی شرمندگی عام کافروں سے چھپانے کی کوشش کریں گے اور اس دن ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵۴ ۲ / ۳۱۹ جلالین یونس تحت الایۃ: ۵۴ ص۱۷۵ ملتقطا)چونکہ اللہ عزوجل نے کفر و شرک کی سزا کا دائمی ہونا بیان فرما دیا اور قانون بنا دیا تو اب جسے یہ سزا ملے گی اسے یقینا قانون کے مطابق ملے گی اور قانون کے مطابق سزا انصاف ہی ہوتی ہے۔