Surah Yunus Ayat 57 (10:57)
Jonah · Juz 11 · Makki
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{ یایها الناس:اے لوگو!۔} اس آیت میں قرآن کریم کے آنے اور اس کے نصیحت شفاہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب ان فوائد عظیمہ کی جامع ہے۔ قران مجید کے عظیم فوائد : اس ایت میں قران کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے (1)… ’’ موعظة ‘‘اس کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ ’’ موعظة ‘‘نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵۷ ۲ / ۳۲۰) تفسیر جمل میں ہے کہ ’’ موعظة‘‘ کا معنی ہے وعظ و نصیحت یعنی مکلف کے سامنے نیک اعمال جو کہ اس کیلئے فائدہ مند ہیں اور برے اعمال جو کہ اس کے لئے نقصان دہ ہیں بیان کر کے اسے نصیحت کرنا اسی طرح اچھے عمل کرنے کی ترغیب دینا اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانا بھی اس میں داخل ہے۔ (جمل یونس تحت الایۃ: ۵۷ ۳ / ۳۷۲) اور قران کریم سے یہ فائدہ انتہائی احسن طریقے سے حاصل ہوتاہے۔ (2)…شفاء :اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک قلبی امراض کودور کرتا ہے دل کے امراض سے مراد مذموم اخلاق فاسد عقائد اور مہلک جہالتیں ہیں قرآن پاک ان تمام امراض کو دور کرتا ہے۔ (3)…قرآن کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵۷ ۲ / ۳۲۰ ملخصا) شریعت طریقت اور حقیقت کی طرف اشارہ: علامہ صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ موعظة‘‘ کا معنی یہ ہے کہ نفع دینے والی چیزوں یعنی اچھے اعمال کی ہدایت اور نقصان دینے والی چیزوں یعنی برے اعمال سے ڈرانا۔’’ من ربكم‘‘ ’’ موعظة ‘‘ کی صفت ہے اور ارشاد فرمایا ’’ و شفآء لما فی الصدور‘‘ اس میں سینوں سے مراد دل ہیں اور معنی یہ ہے کہ قران وعظ و نصیحت کرنے والا ہے اورا سی کے ذریعے دلوں کے امراض یعنی کینہ حسد بغض اور برے عقائد سے شفاء نصیب ہوتی ہے۔اور ارشاد فرمایا ’’وهدى‘‘ یعنی نور جو کہ کامل مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ حق و باطل میں امتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں ’’اس ایت میں شریعت طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔ شریعت کی طرف اشارہ ایت کے اس حصے’’موعظة من ربكم‘‘ میں ہے کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور طریقت کی طرف اشارہ ایت کے اس حصے’’و شفآء لما فی الصدور‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا مناسب چیز سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ ایت کے اس حصے ’’و هدى و رحمة للمؤمنین‘‘ میں ہے کیونکہ حقیقت ہی کے ذریعے دلوں میں ان انوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی حقیقت کے مطابق نظر اتی ہیں۔ جب دلوں میں ان انوار کی تجلیات ا جائیں تو پھر ہر چیز میں اللہ تعالی کی قدرت دکھائی دیتی ہے اور ہر چیز علم ذوقی کے اعتبار سے اس کے قریب ہو جاتی ہےخلاصہ یہ ہے کہ حقیقت طریقت کا ثمرہ ہے اور حقیقت طریقت اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت شریعت کے بغیر باطل ہے اور شریعت حقیقت کے بغیربیکار ہے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۵۷ ۳ / ۸۷۶-۸۷۷)